Friday, 17 July 2026

جسے میں خواب سمجھا تھا اچانک اصل ہو جائے

خواب


بہت آرام دہ دن تھا

تسلی کی نشستِ مہرباں پر

سر ٹکائے، پاؤں لٹکائے ہوئے

کہیں بیٹھا ہوا تھا میں

میرے آگے صبحِ (نو) کے طشت میں بکھرے ہوئے

فُرصت کے میوے تھے

محبت کی صُراحی میں شرابِ عشق رکھی تھی

یہاں غالب، وہاں پر میر کا دیوان رکھا تھا

بھرا تھا چائے کا پیالہ جہاں گُلدان رکھا تھا

کہیں سے نغمۂ راحت کی دُھن پر رقص کرتی

دوپہر آئی

بہت آسُودگی دیتا ہوا

باہر گلی میں کھیلتے بچوں کا شور و غُل

کُھلے آنگن میں بکھری دُھوپ سے

اُٹھنے لگی اک خواب کی خُوشبو

مِری آنکھوں میں اطمینان کی اک نیند اُبھر آئی

سکوں چاروں طرف پھیلا ہوا تھا

اور میں بیٹھا ہوا تھا

بھلا یہ کیسے مُمکن تھا کہ میں اُٹھ کر کہیں جاتا

یہاں سے میں اگر جاتا کہیں تو کس جگہ جاتا؟

عجب تھی عشرتِ فُرصت

کہ زخمِ ہجر بھی جیسے

نشاطِ وصل ہو جائے

جسے میں خواب سمجھا تھا

اچانک اصل ہو جائے


احمد مبارک

No comments:

Post a Comment