Sunday, 12 July 2026

تیرے دیوانے ترے کوچے سے جب گزرے ہیں

 تیرے دیوانے تِرے کوچے سے جب گزرے ہیں

غم بہ دل، خاک بہ سر، آہ بہ لب گزرے ہیں

مسکراتے ہوئے جھیلے ہیں رفیقو! ہم نے

حادثے جو بھی سرِ راہِ طلب گزرے ہیں

یہ تو سب کچھ ہے بجا ناصحِ مشفق! لیکن

ہم پہ گزرے ہیں جو دن تم پہ وہ کب گزرے ہیں

جن کی آنکھوں میں ہے اشکوں کے تلاطم کا سماں

ان فقیروں پہ بھی ایامِ طرب گزرے ہیں

ساتھیو! قہر بھری، زہر بھری راہوں میں

روند کر ہم ہی دل ظلمتِ شب گزرے ہیں


اشرف قدسی

No comments:

Post a Comment