عارفانہ کلام حمد نعت منقبت سلام
ہمتِ جُنبشِ لب کہاں
میں کہاں مدحِ زینبؑ کہاں
وہ تو گُفتارِ زینبؑ میں تھا
لہجۂ مرتضیٰؑ اب کہاں
ان کے دربارِ دُربار میں
جرأتِ عرضِ مطلب کہاں
عارفانہ کلام حمد نعت منقبت سلام
ہمتِ جُنبشِ لب کہاں
میں کہاں مدحِ زینبؑ کہاں
وہ تو گُفتارِ زینبؑ میں تھا
لہجۂ مرتضیٰؑ اب کہاں
ان کے دربارِ دُربار میں
جرأتِ عرضِ مطلب کہاں
عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
انگلی پہ جنؐ کی گھوم رہے ہیں یہ شش جہات
وہﷺ بوریہ نشیں ہیں، شہنشاہِ کائناتﷺ
دن انؐ کے رخ کا عکس تو ہے عکسِ زُلف رات
اور سارے عطر انؐ کے پسینے کی ہیں زکات
بر حالِ زار من، بفگن بہرِ پنجتن
اک چشم التفات بس اک چشمِ التفات
عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
مسلکِ عشق کا سلسلہ رہ گیا
راہرو چل دئیے راستہ رہ گیا
کربلا تجھ پہ روندا گیا جسمِ شہؑ
کیوں نہ پھٹ کر کلیجہ تیرا رہ گیا
تیر کے ساتھ ایماں گیا ہاتھ سے
حُرملہ اب تِرے پاس کیا رہ گیا
عارفانہ کلام منقبت سلام مرثیہ بر شہدائے کربلا
جب قافلہ حسینؑ کا اترا لبِ فُرات
فرطِ خوشی میں خود سے یہ بولا لبِ فرات
یہ وارثانِ کوثر و تسنیم آئے ہیں
تجھ کو ملا ہے خُلد کا رُتبہ لبِ فرات
تیرا مقام اب لبِ کوثر کے پاس ہے
تیرا نصیب آج سے چمکا لبِ فرات
عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
جن کے دروازے پہ جبریلؑ کا پہرا دیکھا
ہائے افسوس، انہیں دشت میں تنہا دیکھا
باپ نے پیاس سے بچوں کو تڑپتا دیکھا
بے کسی تُو نے کہیں اور بھی ایسا دیکھا
اک طرف سبطِ پیمبرؐ کا بڑھاپا دیکھا
ایک جانب علی اکبرؑ کا جنازہ دیکھا
عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
چشمِ فطرت سے بہے تھے جو بہتر آنسو
آنکھ سے گرتے ہیں وہ بن کے سمندر آنسو
رونے والو! ہے اگر دل میں غمِ آلِ عبا
کربلا جائیں گے ان آنکھوں سے بہہ کر آنسو
تپشِ روزِ قیامت سے بچانے کے لیے
آئیں گے بہرِ سفارش لبِ کوثر آنسو