Showing posts with label ساجد امروہوی. Show all posts
Showing posts with label ساجد امروہوی. Show all posts

Thursday, 27 July 2023

ہمت جنبش لب کہاں میں کہاں مدح زینب کہاں

 عارفانہ کلام حمد نعت منقبت سلام


ہمتِ جُنبشِ لب کہاں

میں کہاں مدحِ زینبؑ کہاں

وہ تو گُفتارِ زینبؑ میں تھا

لہجۂ مرتضیٰؑ اب کہاں

ان کے دربارِ دُربار میں

جرأتِ عرضِ مطلب کہاں

Thursday, 20 October 2022

انگلی پہ جن کی گھوم رہے ہیں یہ شش جہات

 عارفانہ کلام حمد نعت منقبت


انگلی پہ جنؐ کی گھوم رہے ہیں یہ شش جہات

وہﷺ بوریہ نشیں ہیں، شہنشاہِ کائناتﷺ

دن انؐ کے رخ کا عکس تو ہے عکسِ زُلف رات

اور سارے عطر انؐ کے پسینے کی ہیں زکات

بر حالِ زار من، بفگن بہرِ پنجتن

اک چشم التفات بس اک چشمِ التفات

Tuesday, 23 August 2022

مسلک عشق کا سلسلہ رہ گیا

عارفانہ کلام حمد نعت منقبت


مسلکِ عشق کا سلسلہ رہ گیا

راہرو چل دئیے راستہ رہ گیا

کربلا تجھ پہ روندا گیا جسمِ شہؑ

کیوں نہ پھٹ کر کلیجہ تیرا رہ گیا

تیر کے ساتھ ایماں گیا ہاتھ سے

حُرملہ اب تِرے پاس کیا رہ گیا

Monday, 8 August 2022

جب قافلہ حسین کا اترا لب فرات

 عارفانہ کلام منقبت سلام مرثیہ بر شہدائے کربلا


جب قافلہ حسینؑ کا اترا لبِ فُرات

فرطِ خوشی میں خود سے یہ بولا لبِ فرات

یہ وارثانِ کوثر و تسنیم آئے ہیں

تجھ کو ملا ہے خُلد کا رُتبہ لبِ فرات

تیرا مقام اب لبِ کوثر کے پاس ہے

تیرا نصیب آج سے چمکا لبِ فرات

Saturday, 2 July 2022

جن کے دروازے پہ جبریل کا پہرہ دیکھا

عارفانہ کلام حمد نعت منقبت


جن کے دروازے پہ جبریلؑ کا پہرا دیکھا

ہائے افسوس، انہیں دشت میں تنہا دیکھا

باپ نے پیاس سے بچوں کو تڑپتا دیکھا

بے کسی تُو نے کہیں اور بھی ایسا دیکھا

اک طرف سبطِ پیمبرؐ کا بڑھاپا دیکھا

ایک جانب علی اکبرؑ کا جنازہ دیکھا

Tuesday, 3 May 2022

چشم فطرت سے بہے تھے جو بہتر آنسو

عارفانہ کلام حمد نعت منقبت


چشمِ فطرت سے بہے تھے جو بہتر آنسو

آنکھ سے گرتے ہیں وہ بن کے سمندر آنسو

رونے والو! ہے اگر دل میں غمِ آلِ عبا

کربلا جائیں گے ان آنکھوں سے بہہ کر آنسو

تپشِ روزِ قیامت سے بچانے کے لیے

آئیں گے بہرِ سفارش لبِ کوثر آنسو