عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
کوئی کہتا ہے دھرم خلق میں کھویا اس نے
کوئی کہتا ہے کہ نام اپنا ڈبویا اس نے
کوئی جل بھُن کے حسد سے یہی کرتا ہے سخن
رام ایسا ہو کٹے اس کی زباں اس کا دہن
کم سنی میں تو یہ ہرگز بھی نہ تھا اس کا چلن
جب جواں ہونے کو آئی تو سیکھا ہے یہ فن