Showing posts with label طاہر تنولی. Show all posts
Showing posts with label طاہر تنولی. Show all posts

Thursday, 24 February 2022

ہر گھڑی مجھ پہ رواں ایسا ستم رکھا ہے

 ہر گھڑی مجھ پہ رواں ایسا ستم رکھا ہے

شہر والوں نے مِری آنکھ کو نم رکھا ہے

میں نے اک عمر سرِ راہ بچھائی پلکیں

اس نے پھر جا کے مِرے گھر میں قدم رکھا ہے

ضبط ٹوٹا ہے مگر اشک نہیں بہنے دئیے

ہم نے بس یار! محبت کا بھرم رکھا ہے

Sunday, 23 January 2022

آنکھ پانی کا ایک دریا ہے

 آنکھ پانی کا ایک دریا ہے

نوحہ خوانی کا ایک دریا ہے

ہائے یہ چشمِ خونچکاں دیکھو

غم فشانی کا ایک دریا ہے

ہر کہانی ہے ایک صحرا کی

ہر کہانی کا ایک دریا ہے

Monday, 27 December 2021

نبی کا ذکر ہوا ہے تو پھر نماز پڑھی

عارفانہ کلام نعتیہ کلام


نبیﷺ کا ذکر ہوا ہے تو پھر نماز پڑھی

پتا چلا کہ خدا ہے تو پھر نماز پڑھی

ہم اس حساب سے بھی مختلف ہیں لوگوں سے

جمالِ یار کُھلا ہے تو پھر نماز پڑھی

وہ سبز لمس مجھے لے گیا ہے مسجد میں

کہ اس کا بوسہ لیا ہے تو پھر نماز پڑھی

Sunday, 26 December 2021

جب غم دل چھپانا پڑتا ہے

 جب غمِ دل چھپانا پڑتا ہے 

کس قدر مسکرانا پڑتا ہے 

جس کو ہم دیکھنے کو سوتے ہیں 

خواب وہ بھی بھلانا پڑتا ہے 

اب محبت کے واسطے بھی میاں 

پہلے پیسہ کمانا پڑتا پڑتا ہے 

Saturday, 6 March 2021

نظر جھکا کے گزرنا جو میری عادت ہے

 نظر جھکا کے گزرنا جو میری عادت ہے

ملی ہوئی مجھے ورثے میں یہ شرافت ہے

دھڑکنے لگتا ہے دل یہ عجیب شدت سے

نگاہ ملنا بھی ان سے عجب مصیبت ہے

پھر اُس کے بعد یہ دل لمس مانگتا ہے میاں

حسین چہروں کو تکنا بڑی اذیت ہے