ہر گھڑی مجھ پہ رواں ایسا ستم رکھا ہے
شہر والوں نے مِری آنکھ کو نم رکھا ہے
میں نے اک عمر سرِ راہ بچھائی پلکیں
اس نے پھر جا کے مِرے گھر میں قدم رکھا ہے
ضبط ٹوٹا ہے مگر اشک نہیں بہنے دئیے
ہم نے بس یار! محبت کا بھرم رکھا ہے
ہر گھڑی مجھ پہ رواں ایسا ستم رکھا ہے
شہر والوں نے مِری آنکھ کو نم رکھا ہے
میں نے اک عمر سرِ راہ بچھائی پلکیں
اس نے پھر جا کے مِرے گھر میں قدم رکھا ہے
ضبط ٹوٹا ہے مگر اشک نہیں بہنے دئیے
ہم نے بس یار! محبت کا بھرم رکھا ہے
آنکھ پانی کا ایک دریا ہے
نوحہ خوانی کا ایک دریا ہے
ہائے یہ چشمِ خونچکاں دیکھو
غم فشانی کا ایک دریا ہے
ہر کہانی ہے ایک صحرا کی
ہر کہانی کا ایک دریا ہے
عارفانہ کلام نعتیہ کلام
نبیﷺ کا ذکر ہوا ہے تو پھر نماز پڑھی
پتا چلا کہ خدا ہے تو پھر نماز پڑھی
ہم اس حساب سے بھی مختلف ہیں لوگوں سے
جمالِ یار کُھلا ہے تو پھر نماز پڑھی
وہ سبز لمس مجھے لے گیا ہے مسجد میں
کہ اس کا بوسہ لیا ہے تو پھر نماز پڑھی
جب غمِ دل چھپانا پڑتا ہے
کس قدر مسکرانا پڑتا ہے
جس کو ہم دیکھنے کو سوتے ہیں
خواب وہ بھی بھلانا پڑتا ہے
اب محبت کے واسطے بھی میاں
پہلے پیسہ کمانا پڑتا پڑتا ہے
نظر جھکا کے گزرنا جو میری عادت ہے
ملی ہوئی مجھے ورثے میں یہ شرافت ہے
دھڑکنے لگتا ہے دل یہ عجیب شدت سے
نگاہ ملنا بھی ان سے عجب مصیبت ہے
پھر اُس کے بعد یہ دل لمس مانگتا ہے میاں
حسین چہروں کو تکنا بڑی اذیت ہے