Showing posts with label پریم رنگپوری. Show all posts
Showing posts with label پریم رنگپوری. Show all posts

Sunday, 9 August 2026

میری آہ کا بھی اثر دیکھ لینا

 میری آہ کا بھی اثر دیکھ لینا

زمانے کو زیر و زبر دیکھ لینا

یہی ہو گا اے چارہ گر دیکھ لینا

نہ جائے گا درد جگر دیکھ لینا

میرے بعد تجھ کو یہ میری وفائیں

رُلائیں گی آٹھوں پہر دیکھ لینا

Sunday, 8 March 2026

کسی کے عشق میں خود کھو حواس بیٹھے ہیں

 کسی کے عشق میں خود کھو حواس بیٹھے ہیں

انہیں خبر ہی نہیں ہم اداس بیٹھے ہیں

کوئی جتائے انہیں جا کے نامہ بر بن کے

وہ ایک ہم ہیں جو اب محو یاس بیٹھے ہیں

نگاہ لطف و کرم دے گئی ہمیں غفلت

جو مدتوں سے تِرے در کے پاس بیٹھے ہیں

Tuesday, 7 January 2025

اثر کیا لب خاموش نے زباں کی طرح

 اثر کیا لبِ خاموش نے زباں کی طرح

بکھر گیا مِرا ہر اشک داستاں کی طرح

کیے ہیں تُو نے ستم جورِ آسماں کی طرح

جو امتحان لیے مجھ سے امتحاں کی طرح

کہاں ٹھکانہ بناؤں گا اپنا اے صیاد؟

قفس بھی راس نہ آیا جو آشیاں کی طرح

Tuesday, 3 December 2024

نگاہ زرد میں رنگ خمار کیا کہنا

 نگاہ زرد میں رنگ خمار کیا کہنا

خزاں کے دور میں فصل بہار کیا کہنا

سمجھ سکا نہ کوئی جز مِرے سر محفل

فقیر اشارے کو اے چشمِ یار! کیا کہنا

ملا ہے لطفِ غمِ انتظار جو ہم کو

تِرے کرم کا اے غفلت شعار کیا کہنا

Wednesday, 27 November 2024

بتوں سے ہم نے جا کے التجا کی

 بتوں سے ہم نے جا کے التجا کی

بغاوت یہ خدا سے بر ملا کی

فنا جب ہو چکی کشتی ہماری

تو پھر آواز آئی نا خدا کی

جھکا دی یہ جبیں ہر نقشِ پا پر

الہیٰ خیر میرے دست و پا کی