میری آہ کا بھی اثر دیکھ لینا
زمانے کو زیر و زبر دیکھ لینا
یہی ہو گا اے چارہ گر دیکھ لینا
نہ جائے گا درد جگر دیکھ لینا
میرے بعد تجھ کو یہ میری وفائیں
رُلائیں گی آٹھوں پہر دیکھ لینا
میری آہ کا بھی اثر دیکھ لینا
زمانے کو زیر و زبر دیکھ لینا
یہی ہو گا اے چارہ گر دیکھ لینا
نہ جائے گا درد جگر دیکھ لینا
میرے بعد تجھ کو یہ میری وفائیں
رُلائیں گی آٹھوں پہر دیکھ لینا
کسی کے عشق میں خود کھو حواس بیٹھے ہیں
انہیں خبر ہی نہیں ہم اداس بیٹھے ہیں
کوئی جتائے انہیں جا کے نامہ بر بن کے
وہ ایک ہم ہیں جو اب محو یاس بیٹھے ہیں
نگاہ لطف و کرم دے گئی ہمیں غفلت
جو مدتوں سے تِرے در کے پاس بیٹھے ہیں
اثر کیا لبِ خاموش نے زباں کی طرح
بکھر گیا مِرا ہر اشک داستاں کی طرح
کیے ہیں تُو نے ستم جورِ آسماں کی طرح
جو امتحان لیے مجھ سے امتحاں کی طرح
کہاں ٹھکانہ بناؤں گا اپنا اے صیاد؟
قفس بھی راس نہ آیا جو آشیاں کی طرح
نگاہ زرد میں رنگ خمار کیا کہنا
خزاں کے دور میں فصل بہار کیا کہنا
سمجھ سکا نہ کوئی جز مِرے سر محفل
فقیر اشارے کو اے چشمِ یار! کیا کہنا
ملا ہے لطفِ غمِ انتظار جو ہم کو
تِرے کرم کا اے غفلت شعار کیا کہنا
بتوں سے ہم نے جا کے التجا کی
بغاوت یہ خدا سے بر ملا کی
فنا جب ہو چکی کشتی ہماری
تو پھر آواز آئی نا خدا کی
جھکا دی یہ جبیں ہر نقشِ پا پر
الہیٰ خیر میرے دست و پا کی