Sunday, 8 March 2026

کسی کے عشق میں خود کھو حواس بیٹھے ہیں

 کسی کے عشق میں خود کھو حواس بیٹھے ہیں

انہیں خبر ہی نہیں ہم اداس بیٹھے ہیں

کوئی جتائے انہیں جا کے نامہ بر بن کے

وہ ایک ہم ہیں جو اب محو یاس بیٹھے ہیں

نگاہ لطف و کرم دے گئی ہمیں غفلت

جو مدتوں سے تِرے در کے پاس بیٹھے ہیں

خبر نہیں ہے تمہیں کو اے کاش گر ہوتے

کہ دل میں لے کے محبت کی آس بیٹھے ہیں

شمیم گل کی تمنا ہمیں ضرور نہیں

مشام جاں میں لیے ان کی یاس بیٹھے ہیں

بلاکشان غم انتظار ہیں اے پریم

نگاہیں در پہ لگی ہیں اداس بیٹھے ہیں


پریم رنگپوری

No comments:

Post a Comment