کسی کے عشق میں خود کھو حواس بیٹھے ہیں
انہیں خبر ہی نہیں ہم اداس بیٹھے ہیں
کوئی جتائے انہیں جا کے نامہ بر بن کے
وہ ایک ہم ہیں جو اب محو یاس بیٹھے ہیں
نگاہ لطف و کرم دے گئی ہمیں غفلت
جو مدتوں سے تِرے در کے پاس بیٹھے ہیں
خبر نہیں ہے تمہیں کو اے کاش گر ہوتے
کہ دل میں لے کے محبت کی آس بیٹھے ہیں
شمیم گل کی تمنا ہمیں ضرور نہیں
مشام جاں میں لیے ان کی یاس بیٹھے ہیں
بلاکشان غم انتظار ہیں اے پریم
نگاہیں در پہ لگی ہیں اداس بیٹھے ہیں
پریم رنگپوری
No comments:
Post a Comment