Sunday, 8 March 2026

خوشبوؤں کا شہر اجڑا گھر سے بے گھر ہو گئے

 خوشبوؤں کا شہر اجڑا گھر سے بے گھر ہو گئے

بادشاہت ہاتھ سے نکلی گداگر ہو گئے

تیرگی میں جا پڑے روشن تقاضے صبح کے

جھوٹ سچے تھے جبھی لوگوں کو ازبر ہو گئے

جتنے عرصے ہم رہے خود سر انا کے زیر پا

ذرے سورج بن گئے قطرے سمندر ہو گئے

تھا قصور اپنا یہی بس آئینہ شانے پہ تھا

چہرے کیا ابھرے سبھی آپے سے باہر ہو گئے

جانے کس کی بد دعا پرویز رحمانی لگی

دیکھتے ہی دیکھتے احباب پتھر ہو گئے


پرویز رحمانی

No comments:

Post a Comment