Thursday, 12 March 2026

ویرانے باغ باغ ہیں میری نگاہ سے

 ویرانے باغ باغ ہیں میری نگاہ سے

ذرات شب چراغ ہیں میری نگاہ سے

میری نظر شعاع جگر سوز و جاں گداز

روشن دلوں کے داغ ہیں میری نگاہ سے

ہے کس قدر حسین یہ تصویر کائنات

خوشرنگ باغ و راغ ہیں میری نگاہ سے

ساقی کی چشم مست پہ الزام آ نہ جائے

لبریز سب ایاغ ہیں میری نگاہ سے

وہ بے نیاز درد و غم زندگی نیاز

وہ لوگ با فراغ ہیں میری نگاہ سے


نیاز حیدر

No comments:

Post a Comment