Tuesday, 24 March 2026

ناکام ہی دل جو رہنا تھا ناکام رہا اچھا ہی ہوا

 ناکام ہی دل جو رہنا تھا ناکام رہا اچھا ہی ہوا

اب کیجے کسی کا شکوہ کیا جو کچھ بھی ہوا اچھا ہی ہوا

کچھ منزل کا غم بڑھ جاتا کچھ راہیں مشکل ہو جاتیں

اس تپتی دھوپ میں زلفوں کا سایہ نہ ملا اچھا ہی ہوا

اب راہ وفا کے پتھر کو ہم پھول نہیں سمجھیں گے کبھی

پہلے ہی قدم پر ٹھیس لگی دل ٹوٹ گیا اچھا ہی ہوا

دو چار گھڑی ہنس بول کے ہم برسوں خوں کے آنسو روتے

دو چار گھڑی بھی بزم طرب میں جی نہ لگا اچھا ہی ہوا

ان جادو کرنے والوں کے کچھ بھید سمجھ میں آ تو گئے

دل پیار کے پیچھے پاگل تھا ناکام رہا اچھا ہی ہوا

دو گھونٹ سے اپنی تشنہ لبی کیا کم ہوتی کیوں کم ہوتی

چھلکا ہوا ساغر ہاتھوں سے گر کر ٹوٹا اچھا ہی ہوا

ہر وقت خزاں کے جھونکوں سے ڈرتے رہتے ہم بھی منظر

سینے میں کبھی ارمانوں کا غنچہ نہ کھلا اچھا ہی ہوا


منظر سلیم

No comments:

Post a Comment