Saturday, 28 March 2026

صحرا بھی سو گیا ہے دریا بھی سو گیا

 صحرا بھی سو گیا ہے دریا بھی سو گیا

قسمت کا اپنی یارو تارا بھی سو گیا

ہم جاگتے ہیں اس دم تاریک رات میں

منزل بھی سو گئی جب رستہ بھی سو گیا

تھی آرزو سفر میں تم مِرے ساتھ ہو

ہمراز کھو گیا ہے، سایہ بھی سو گیا

لائیں کہاں سے حرکت اپنی صفات میں

جھرنا بھی تھم گیا ہے، نغمہ بھی سو گیا

شاید فنا کے لمحے کچھ پاس آ گئے

سانسیں بھی رک گئی ہیں دھڑکا بھی سو گیا

زاہد میاں! عجب ہے نغمات کا اثر

بوڑھا بھی جھومتا ہے، بچہ بھی سو گیا


محمد زاہد

No comments:

Post a Comment