صحرا بھی سو گیا ہے دریا بھی سو گیا
قسمت کا اپنی یارو تارا بھی سو گیا
ہم جاگتے ہیں اس دم تاریک رات میں
منزل بھی سو گئی جب رستہ بھی سو گیا
تھی آرزو سفر میں تم مِرے ساتھ ہو
ہمراز کھو گیا ہے، سایہ بھی سو گیا
لائیں کہاں سے حرکت اپنی صفات میں
جھرنا بھی تھم گیا ہے، نغمہ بھی سو گیا
شاید فنا کے لمحے کچھ پاس آ گئے
سانسیں بھی رک گئی ہیں دھڑکا بھی سو گیا
زاہد میاں! عجب ہے نغمات کا اثر
بوڑھا بھی جھومتا ہے، بچہ بھی سو گیا
محمد زاہد
No comments:
Post a Comment