Thursday, 26 March 2026

کرم میں ہے نہ ستم میں نہ التفات میں ہے

 کرم میں ہے نہ ستم میں نہ التفات میں ہے

جو بات تیری نگاہوں کی احتیاط میں ہے

کچھ اس طرح سے چلے جا رہے ہیں کانٹوں پر

کہ جیسے ہاتھ ہمارا تمہارے ہاتھ میں ہے

دیے جلے ہیں سجی جا رہی ہے کل کی دلہن

عجیب حسن غم زندگی کی رات میں ہے

کھڑی ہے سیل حوادث کے درمیاں اب تک

بڑا ثبات مری عمر بے ثبات میں ہے

نہ کوئی دوست کسی کا نہ کوئی دشمن ہے

ہمارا دوست و دشمن ہماری ذات میں ہے


مشتاق نقوی

No comments:

Post a Comment