جینے کی ہر امنگ سلانی پڑی مجھے
کاندھے پہ اپنی لاش اٹھانی پڑی مجھے
غدار ہم سفر تھے سو کرتا میں کیا بھلا
چلتی ہوئی ٹرین جلانی پڑی مجھے
گہرائی الجھنوں کی بلندی سے جب دکھی
ہاتھوں سے اپنی سیڑھی گرانی پڑی مجھے
سوکھے گلے کا سوز فشار لہو کا روگ
کانٹے نگل کے پیاس بجھانی پڑی مجھے
جب وقت کی دوا سے افاقہ نہ ہو سکا
اشکوں سے تیری یاد مٹانی پڑی مجھے
منصور! جب بھی کال پڑا کچھ خیال کا
مصرع میں پھر ردیف نبھانی پڑی مجھے
منصور محبوب
No comments:
Post a Comment