Saturday, 21 March 2026

جینے کی ہر امنگ سلانی پڑی مجھے

 جینے کی ہر امنگ سلانی پڑی مجھے

کاندھے پہ اپنی لاش اٹھانی پڑی مجھے

غدار ہم سفر تھے سو کرتا میں کیا بھلا

چلتی ہوئی ٹرین جلانی پڑی مجھے

گہرائی الجھنوں کی بلندی سے جب دکھی

ہاتھوں سے اپنی سیڑھی گرانی پڑی مجھے

سوکھے گلے کا سوز فشار لہو کا روگ

کانٹے نگل کے پیاس بجھانی پڑی مجھے

جب وقت کی دوا سے افاقہ نہ ہو سکا

اشکوں سے تیری یاد مٹانی پڑی مجھے

منصور! جب بھی کال پڑا کچھ خیال کا

مصرع میں پھر ردیف نبھانی پڑی مجھے


منصور محبوب

No comments:

Post a Comment