Saturday, 28 March 2026

گزر جاتا ہے یوں دور شباب آہستہ آہستہ

 گزر جاتا ہے یوں دور شباب آہستہ آہستہ

کہ اترے جس طرح کیف شراب آہستہ آہستہ

شفق ہوتی ہے جیسے منتقل شب کے اندھیروں میں

بدلتی جاتی ہے تعبیر خواب آہستہ آہستہ

چلے گا سلسلہ کچھ اور ابھی خانہ خرابی کا

کہ بستے ہیں تباہ انقلاب آہستہ آہستہ

جرائم کے بگولے رفتہ رفتہ بن گئے طوفاں

فصیل شہر پر ٹوٹا عذاب آہستہ آہستہ

روش یک لخت بدلے یوں کبھی ہوتے نہیں دیکھا

ہمارا طور بدلے گا جناب آہستہ آہستہ

تساہل ہم نے برتا یا تغافل آپ کی خو ہے

ملے گا ان سوالوں کا جواب آہستہ آہستہ

اچانک رونمائی سے نظر خیرہ نہ ہو جائے

ذرا سرکائیے رخ سے نقاب آہستہ آہستہ

پڑھیں لوگوں نے جس پر تلخیاں عمر گزشتہ کی

مرا چہرہ بنا ایسی کتاب آہستہ آہستہ

غم دوراں کی روز افزوں ستم گاری نے اے محسن

ہماری زیست کر ڈالی عذاب آہستہ آہستہ آہستہ


محسن عثمانی

نورالحسن

No comments:

Post a Comment