Sunday, 22 March 2026

سناتا ہوں تمہیں میں اپنی بات آہستہ آہستہ

 سُناتا ہوں تمہیں میں اپنی بات، آہستہ آہستہ

گُزرتی جائے ہے فُرقت کی رات آہستہ آہستہ

کہاں پیدا ہوا اور کس جگہ پر زندگی گُزری

چلی ہی جائے ہے میری برات، آہستہ آہستہ

الٰہی شکریہ تیرا کہ مجھ کو چند لمحوں میں

غموں سے مل ہی جائے گی نجات، آہستہ آہستہ

مِرا ماضی تو گُزرا ہے بہت تیزی سے ہی لیکن

ابھی تو آئے گی میری وفات، آہستہ آہستہ

ارے منظور تُو کیوں اس قدر بے تاب ہے پیارے

خدا کی ہو گی تجھ پر التفات، آہستہ آہستہ


منظور قاضی

No comments:

Post a Comment