Friday, 20 March 2026

در جاناں سے نہ لے جائے خدا اور کہیں

 در جاناں سے نہ لے جائے خدا اور کہیں

ہم نہیں جائیں گے اس در کے سوا اور کہیں

کر دیا ان کی جدائی نے عزیزوں سے جدا

میں کہیں اور ہوں اور دل ہے مرا اور کہیں

آپ کے کوچے میں اغیار کہاں آتے ہیں

میں نے دیکھے ہیں نقشِ کفِ پا اور کہیں

کچھ ادھر بھی کہ یہ پیاسے ہیں بہت اے ساقی

جا پکاریں گے وگرنہ فقراء اور کہیں

گھر سے نکلے تو تھے کعبے کا ارادہ کر کے

شوق کم بخت مگر لے ہی گیا اور کہیں

بے ٹھکانوں کا ٹھکانا ہے تِرے کوچے میں

نہ گئے اور نہ جائیں یہ گدا اور کہیں

جب سے عاشق ہوئے ہم دیکھ لیا گھر اس نے

نہیں نازل ہوئی مدت سے بلا اور کہیں

کُوئے جاناں سے جو گزرے تو قضا چلائی

بندہ پرور یہیں تُربت بنے یا اور کہیں

قیس و فرہاد نے آباد کیے دشت و جبل

جا مِرے رہنے کو اے عشق بتا اور کہیں

ابتداء میں تھے غمِ عشق کے ارماں کیا کیا

آج ٹالے نہیں ٹلتی یہ بلا اور کہیں

حضرتِ مہر کسی دھن میں چلے آتے ہیں

آنکھ پڑتی ہے کہیں اور تا پا اور کہیں


مہر دہلوی

منشی سورج نرائن 

No comments:

Post a Comment