در جاناں سے نہ لے جائے خدا اور کہیں
ہم نہیں جائیں گے اس در کے سوا اور کہیں
کر دیا ان کی جدائی نے عزیزوں سے جدا
میں کہیں اور ہوں اور دل ہے مرا اور کہیں
آپ کے کوچے میں اغیار کہاں آتے ہیں
میں نے دیکھے ہیں نقشِ کفِ پا اور کہیں
کچھ ادھر بھی کہ یہ پیاسے ہیں بہت اے ساقی
جا پکاریں گے وگرنہ فقراء اور کہیں
گھر سے نکلے تو تھے کعبے کا ارادہ کر کے
شوق کم بخت مگر لے ہی گیا اور کہیں
بے ٹھکانوں کا ٹھکانا ہے تِرے کوچے میں
نہ گئے اور نہ جائیں یہ گدا اور کہیں
جب سے عاشق ہوئے ہم دیکھ لیا گھر اس نے
نہیں نازل ہوئی مدت سے بلا اور کہیں
کُوئے جاناں سے جو گزرے تو قضا چلائی
بندہ پرور یہیں تُربت بنے یا اور کہیں
قیس و فرہاد نے آباد کیے دشت و جبل
جا مِرے رہنے کو اے عشق بتا اور کہیں
ابتداء میں تھے غمِ عشق کے ارماں کیا کیا
آج ٹالے نہیں ٹلتی یہ بلا اور کہیں
حضرتِ مہر کسی دھن میں چلے آتے ہیں
آنکھ پڑتی ہے کہیں اور تا پا اور کہیں
مہر دہلوی
منشی سورج نرائن
No comments:
Post a Comment