Tuesday, 24 March 2026

اجلی پوشاک میں پھرتے ہیں نہا کے دھبے

 کون کہہ سکتا ہے اب ان کو خطا کے دھبے

اجلی پوشاک میں پھرتے ہیں نہا کے دھبے

اب بھی کرتا ہوں وہ مخمل سی ہتھیلی محسوس

اب بھی موجود ہیں دامن پہ حنا کے دھبے

غم کے صحرا سے نکل آئے تھے شاید کچھ لوگ

کتنے چہروں پہ نظر آئے ہوا کے دھبے

اس طرح لوگ تو پہچان لیے جاتے کچھ

کاش ماتھوں پہ ابھر آئیں دغا کے دھبے

روگ باقی نہ رہا مر گئے روگی بھی سب

رہ گئے آج بھی دامن پہ دوا کے دھبے

اس لیے اپنی خطا دیکھ نہ پائے تم بھی

دل کے شیشے پہ تھے افروز انا کے دھبے


معین افروز

No comments:

Post a Comment