Friday, 27 March 2026

منظر دیکھے ان کے حرم کے

 عارفانہ کلام حمد نعت منقبت


منظر دیکھے ان کے حرم کے

بھاگ جگے ہیں چشمِ نم کے

نورِ اول ذاتِ محمدﷺ

وہ مصداق ہیں لوح و قلم کے

ان کے شہر کے ذرے ہوتے

بوسے لیتے ان کے قدم کے

دنیا گور یا روزِ محشر

ہم ہیں سوالی ان کے کرم کے

کتنا اونچا ان کا رتبہ

بیٹھ گئے جو در پر جم کے

گنبدِ خضریٰ نظروں میں ہو

رہ جاتی ہیں سانسیں تھم کے

وقتِ نزع ہو اس احقر کا

اور قدم ہوں شاہِ اممﷺ کے


محمد رضا نقشبندی

No comments:

Post a Comment