عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
منظر دیکھے ان کے حرم کے
بھاگ جگے ہیں چشمِ نم کے
نورِ اول ذاتِ محمدﷺ
وہ مصداق ہیں لوح و قلم کے
ان کے شہر کے ذرے ہوتے
بوسے لیتے ان کے قدم کے
دنیا گور یا روزِ محشر
ہم ہیں سوالی ان کے کرم کے
کتنا اونچا ان کا رتبہ
بیٹھ گئے جو در پر جم کے
گنبدِ خضریٰ نظروں میں ہو
رہ جاتی ہیں سانسیں تھم کے
وقتِ نزع ہو اس احقر کا
اور قدم ہوں شاہِ اممﷺ کے
محمد رضا نقشبندی
No comments:
Post a Comment