Saturday, 21 March 2026

عداوت کو لگاوٹ دشمنی کو دل لگی سمجھے

 عداوت کو لگاوٹ دشمنی کو دل لگی سمجھے

ہم اپنی سادگی سے جب کبھی سمجھے یہی سمجھے

بہت برباد ہو کر آہ رازِ عاشقی سمجھے

تمہاری دوستی کو ہم فلک کی دشمنی سمجھے

جہاں محرومیاں دیکھیں وہیں دنیائے دل پائی

جسے بربادِ غم دیکھا اسی کو آدمی سمجھے

محبت میں رہی اک تشنہ کامی ہم خیالی کی

نہ ہم سمجھا سکے ہرگز نہ تم ہرگز کبھی سمجھے

تمہاری یاد ہم لُبِ لبابِ زندگی سمجھے

مصیبت در حقیقت ہے کسی کی یاد فرمائی

جو یہ سمجھے تو پھر سمجھو کہ رازِ بندگی سمجھے

کہاں کی آہ و زاری کیسا شکوہ کس کی فریادیں

کہ ہم اک آہ تک کو عشق کی بے عزتی سمجھے

تسلی دل کو دے لی پا کے منشا چشمِ ساقی کا

جو تھے لبریز مے بھی ہم خُم و مینا تہی سمجھے

ازل میں کار پردانِ قدرت شاید اے نامی

مسلسل حسرتوں کو ساز و برگِ شاعری سمجھے


منظور حسن نامی

No comments:

Post a Comment