عداوت کو لگاوٹ دشمنی کو دل لگی سمجھے
ہم اپنی سادگی سے جب کبھی سمجھے یہی سمجھے
بہت برباد ہو کر آہ رازِ عاشقی سمجھے
تمہاری دوستی کو ہم فلک کی دشمنی سمجھے
جہاں محرومیاں دیکھیں وہیں دنیائے دل پائی
جسے بربادِ غم دیکھا اسی کو آدمی سمجھے
محبت میں رہی اک تشنہ کامی ہم خیالی کی
نہ ہم سمجھا سکے ہرگز نہ تم ہرگز کبھی سمجھے
تمہاری یاد ہم لُبِ لبابِ زندگی سمجھے
مصیبت در حقیقت ہے کسی کی یاد فرمائی
جو یہ سمجھے تو پھر سمجھو کہ رازِ بندگی سمجھے
کہاں کی آہ و زاری کیسا شکوہ کس کی فریادیں
کہ ہم اک آہ تک کو عشق کی بے عزتی سمجھے
تسلی دل کو دے لی پا کے منشا چشمِ ساقی کا
جو تھے لبریز مے بھی ہم خُم و مینا تہی سمجھے
ازل میں کار پردانِ قدرت شاید اے نامی
مسلسل حسرتوں کو ساز و برگِ شاعری سمجھے
منظور حسن نامی
No comments:
Post a Comment