Showing posts with label نعیم سمیر. Show all posts
Showing posts with label نعیم سمیر. Show all posts

Friday, 4 September 2026

قصہ ان دنوں کا ہے جب ہمیں محبت تھی

 قصہ ان دنوں کا ہے جب ہمیں محبت تھی

خواب اک معمہ تھا نیند اک اذیت تھی

کیا عجیب رشتہ تھا آگ اور پانی کا 

میں برستا بادل تھا اور وہ قیامت تھی

ہم کہ ایک دوجے پر اس طرح سے لازم تھے

مجھ کو اس کا نشہ تھا اس کو میری عادت تھی

Saturday, 14 March 2026

اکثر سوچتا رہتا ہوں تنہائی میں

 اکثر سوچتا رہتا ہوں تنہائی میں

کتنا فرق ہے مجھ میں اور اے آئی میں

ممکن ہے جو دِکھتا ہے وہ دھوکا ہو

سب منظر ہوں پہلے سے بینائی میں

ممکن ہے ہم عرش سے اُلٹا لٹکے ہوں

چاند کسی نے پھینک دیا ہو کھائی میں

Monday, 11 November 2024

کس تیقن تلک گئے ہم لوگ

 کس تیقن تلک گئے ہم لوگ

پھر بھی اے دل بھٹک گئے ہم لوگ

مثل دریا ملی تھی سیرابی

مثل ساحل بلک گئے ہم لوگ

یوں ہی اک دن سفر کیا آغاز

یوں ہی اک روز تھک گئے ہم لوگ

Monday, 17 June 2024

بہت کچھ کھو کے کچھ پایا نہیں کیا

 بہت کچھ کھو کے کچھ پایا نہیں کیا

سمجھ کر بھی، سمجھ آیا نہیں کیا

تُو جو سمجھا تھا کیا وہ سب غلط تھا

جو سوچا تھا وہ بن پایا نہیں کیا

تمہیں کتنا یقیں تھا سچ پر اپنے

تمہیں دُنیا نے جُھٹلایا نہیں کیا

Sunday, 16 June 2024

زندہ لاشیں یہ کیسے لوگ ہیں جن کو خوشی محسوس ہوتی ہے

 زندہ لاشیں


یہ کیسے لوگ ہیں 

جن کو خوشی محسوس ہوتی ہے نہ کوئی غم ستاتا ہے

شکست و نارسائی کا کوئی ردِّ عمل ان میں کبھی دیکھا نہیں جاتا

خطِ غُربت سے نیچے زندگی کو جھیلنے والے

یہ خود کو بے حِسی کے آئینے میں دیکھنے والے

کوئی شکوہ نہیں کرتے

یہ خوف و رنج و غُربت پر کوئی جُنبش ہی کرتے ہیں