قصہ ان دنوں کا ہے جب ہمیں محبت تھی
خواب اک معمہ تھا نیند اک اذیت تھی
کیا عجیب رشتہ تھا آگ اور پانی کا
میں برستا بادل تھا اور وہ قیامت تھی
ہم کہ ایک دوجے پر اس طرح سے لازم تھے
مجھ کو اس کا نشہ تھا اس کو میری عادت تھی
قصہ ان دنوں کا ہے جب ہمیں محبت تھی
خواب اک معمہ تھا نیند اک اذیت تھی
کیا عجیب رشتہ تھا آگ اور پانی کا
میں برستا بادل تھا اور وہ قیامت تھی
ہم کہ ایک دوجے پر اس طرح سے لازم تھے
مجھ کو اس کا نشہ تھا اس کو میری عادت تھی
اکثر سوچتا رہتا ہوں تنہائی میں
کتنا فرق ہے مجھ میں اور اے آئی میں
ممکن ہے جو دِکھتا ہے وہ دھوکا ہو
سب منظر ہوں پہلے سے بینائی میں
ممکن ہے ہم عرش سے اُلٹا لٹکے ہوں
چاند کسی نے پھینک دیا ہو کھائی میں
کس تیقن تلک گئے ہم لوگ
پھر بھی اے دل بھٹک گئے ہم لوگ
مثل دریا ملی تھی سیرابی
مثل ساحل بلک گئے ہم لوگ
یوں ہی اک دن سفر کیا آغاز
یوں ہی اک روز تھک گئے ہم لوگ
بہت کچھ کھو کے کچھ پایا نہیں کیا
سمجھ کر بھی، سمجھ آیا نہیں کیا
تُو جو سمجھا تھا کیا وہ سب غلط تھا
جو سوچا تھا وہ بن پایا نہیں کیا
تمہیں کتنا یقیں تھا سچ پر اپنے
تمہیں دُنیا نے جُھٹلایا نہیں کیا
زندہ لاشیں
یہ کیسے لوگ ہیں
جن کو خوشی محسوس ہوتی ہے نہ کوئی غم ستاتا ہے
شکست و نارسائی کا کوئی ردِّ عمل ان میں کبھی دیکھا نہیں جاتا
خطِ غُربت سے نیچے زندگی کو جھیلنے والے
یہ خود کو بے حِسی کے آئینے میں دیکھنے والے
کوئی شکوہ نہیں کرتے
یہ خوف و رنج و غُربت پر کوئی جُنبش ہی کرتے ہیں