Showing posts with label واجد علی شاہ. Show all posts
Showing posts with label واجد علی شاہ. Show all posts

Sunday, 6 July 2025

احوال حسین ابن علی باعثِ غم ہے

 عارفانہ کلام حمد نعت منقبت


احوال حسینؑ ابن علیؑ باعثِ غم ہے

رنجحش ہے بشر کو تو فرشتوں کو الم ہے

نام شہ دیں عرش معلی پہ رقم ہے

مسجود خدا لوح مبارک پہ قلم ہے

یہ پنجتن پاک تو اشرف ہیں جہاں سے

بہتر ہیں خدائی میں یہی کون و مکاں سے

Saturday, 23 April 2022

چاک چاک اپنا گریباں نہ ہوا تھا سو ہوا

 چاک چاک اپنا گریباں نہ ہوا تھا سو ہوا

وحشت دل کا جو ساماں نہ ہوا تھا سو ہوا

یا خدا دیر میں ساماں نہ ہوا تھا سو ہوا

کافر عشق مسلماں نہ ہوا تھا سو ہوا

رخ انور سے میں حیراں نہ ہوا تھا سو ہوا

کبھی اے زلف پریشاں نہ ہوا تھا سو ہوا

Monday, 5 December 2016

اب تو باز آئیے ستانے سے

اب تو باز آئیے ستانے سے
چوری چوری چلے بہانے سے
اے شہِ حسن لاکھوں سکۂ داغ
پائے اس عشق کے خزانے سے
گومتی ہے گلاب کی صورت
آج اے گل! ترے نہانے سے

ساقیا پھر شراب ناب چلے

ساقیا پھر شرابِ ناب چلے
پیشوا عالمِ شباب چلے
تابِ نظارہ کس کو ہوئے گی
کیوں جی کیوں گھر سے بے نقاب چلے
اب کٹوری کی کچھ نہیں حاجت
بہہ چکے گھاٹ سے حباب چلے

کر چکے چل کے پائمال مجھے

کر چکے چل کے پائمال مجھے
تیغ کی سی دکھائی چال مجھے
شوقِ وصل آج کل بڑھا اتنا
ایک ساعت ہے ایک سال مجھے
اک تصور سے دو بدو ہوں میں
خواب میں بھی رہا خیال مجھے

سہے غم پئے رفتگاں کیسے کیسے

سہے غم پئے رفتگاں کیسے کیسے
مرے کھو گئے کارواں کیسے کیسے
وہ چتون، وہ ابرو، وہ قد یاد سب ہے
سناؤں میں گزرے بیاں کیسے کیسے
رہا عشق سے نام مجنوں کا، ورنہ
تہِ خاک ہیں بے نشاں کیسے کیسے

Sunday, 13 November 2016

ماہتابی پر مرے مہ رو کو لانا چاہیے

ماہتابی پر مِرے مہ رو کو لانا چاہیے
روئے گل پر چادرِ شبنم اڑھانا چاہیے
میرے گھر میں مہرِ عالمتاب شب کو سو گیا
بختِ خوابیدہ اب اپنے جگانا چاہیے
اپنی چوٹی سے سزا دے ہم گنہگاروں کو تُو
عاشقِ گیسو کو ایسا تازیانا چاہیے

نہ گلستاں نہ ہمیں رنگ چمن یاد آیا

نہ گلستاں، نہ ہمیں رنگِ چمن یاد آیا
ہوش آنے بھی نہ پایا تھا کہ صیاد آیا
باغباں! در پہ تو آ فصل کا مژدہ سن لے
خطِ گل لے کے کسی باغ سے شمشاد آیا
آدمیت کی کوئی بات نہ ہو گی مجھ سے
مِری محفل میں اگر کوئی پری زاد آیا

الفت نے تیری ہم کو تو رکھا نہ کہیں کا

الفت نے تیری ہم کو تو رکھا نہ کہیں کا
دریا کا نہ جنگل کا سما کا نہ زمیں کا
اقلیمِ معانی میں عمل ہو گیا میرا
دنیا میں بھروسہ تھا کسے تاج و نگیں کا
تقدیر نے کیا قطب فلک مجھ کو بنایا
محتاج میرا پاؤں رہا خانۂ زیں کا

Tuesday, 25 October 2016

عشق یوسف میں دل زار جو یعقوب ہوا

عشقِ یوسفؑ میں دلِ زار جو یعقوبؑ ہُوا
رنج پر صبر کِیا، صورتِ ایوبؑ ہوا
اے پری اس میں جو تعریفِ سلیماںؑ ہے رقم
میرا دیوان بھی بلقیس کا مکتوب ہوا
خفتگی میں جو مِری تختِ سلیماںؑ گزرا
بخت بیدار ہوا، خواب گیا، خوب ہوا

خزان باغ کا ہوتا ہے گلستاں باعث

خزانِ باغ کا ہوتا ہے گلستاں باعث
ہوا چمن کی صفائی کا باغباں باعث
کسی غریب کے دل کو چھپا کے لُوٹو گے
نقاب پوشی کا ہو جائے گا عیاں باعث
ردیفی غزلوں میں کیونکر مزا ملے سب کو
سمجھ ہی لیتے ہیں اپنی تو نکتہ داں باعث

رخ اپنا ہم کو دکھلایا تو ہوتا

رُخ اپنا ہم کو دِکھلایا تو ہوتا
ذرا سورج کو شرمایا تو ہوتا
مِرے دل کا پتا ملتا انہیں میں
ذرا زُلفوں کو سلجھایا تو ہوتا
مجھی کو واعظا پند و نصیحت
کبھی اس کو بھی سمجھایا تو ہوتا