کر چکے چل کے پائمال مجھے
تیغ کی سی دکھائی چال مجھے
شوقِ وصل آج کل بڑھا اتنا
ایک ساعت ہے ایک سال مجھے
اک تصور سے دو بدو ہوں میں
شرِ مضموں کی فکر کرتا ہوں
تک رہے ہیں عبث شغال مجھے
اختر زار بدر آسا ہو
شعر گوئی میں ہے کمال مجھے
واجد علی شاہ اختر
No comments:
Post a Comment