ساقیا پھر شرابِ ناب چلے
پیشوا عالمِ شباب چلے
تابِ نظارہ کس کو ہوئے گی
کیوں جی کیوں گھر سے بے نقاب چلے
اب کٹوری کی کچھ نہیں حاجت
موج کی شکل بے قراری سے
چشم تر صورتِ حباب چلے
اغنیا دیں گے سب حساب و کتاب
اختر زار، بے حساب چلے
واجد علی شاہ اختر
No comments:
Post a Comment