Monday, 5 December 2016

ساقیا پھر شراب ناب چلے

ساقیا پھر شرابِ ناب چلے
پیشوا عالمِ شباب چلے
تابِ نظارہ کس کو ہوئے گی
کیوں جی کیوں گھر سے بے نقاب چلے
اب کٹوری کی کچھ نہیں حاجت
بہہ چکے گھاٹ سے حباب چلے
موج کی شکل بے قراری سے
چشم تر صورتِ حباب چلے
اغنیا دیں گے سب حساب و کتاب
اختر زار، بے حساب چلے

واجد علی شاہ اختر

No comments:

Post a Comment