Monday, 5 December 2016

اب تو باز آئیے ستانے سے

اب تو باز آئیے ستانے سے
چوری چوری چلے بہانے سے
اے شہِ حسن لاکھوں سکۂ داغ
پائے اس عشق کے خزانے سے
گومتی ہے گلاب کی صورت
آج اے گل! ترے نہانے سے
غنچے کھلتے ہیں اے گلِ خنداں
باغ میں تیرے مسکرانے سے
اس نے پیغام بھیجا اخترؔ کو
آج ہم آئیں گے بہانے سے

واجد علی شاہ اختر

No comments:

Post a Comment