اب تو باز آئیے ستانے سے
چوری چوری چلے بہانے سے
اے شہِ حسن لاکھوں سکۂ داغ
پائے اس عشق کے خزانے سے
گومتی ہے گلاب کی صورت
غنچے کھلتے ہیں اے گلِ خنداں
باغ میں تیرے مسکرانے سے
اس نے پیغام بھیجا اخترؔ کو
آج ہم آئیں گے بہانے سے
واجد علی شاہ اختر
No comments:
Post a Comment