Showing posts with label نیر رانی شفق. Show all posts
Showing posts with label نیر رانی شفق. Show all posts

Thursday, 17 August 2023

بجھتی ہوئی سرد شام آخری دن کا ڈوبتا سورج

 بجھتی ہوئی سرد شام

آخری دن کا ڈوبتا سورج

تیری چوکھٹ پہ سجدہ ریز

اپنی کرنوں کے خالی کشکول الٹ کر

تھکی ہوئی یخ بستہ نگاہوں سے

میری دنیا کی تاریک راہداریوں میں

Thursday, 24 March 2022

نہیں بھولی بھٹک کر بھی محبت کے ٹھکانوں کو

 نہیں بھولی بھٹک کر بھی محبت کے ٹھکانوں کو

وہ اپنے عشق کی نگری، وہ بچپن کے زمانوں کو

سدا فرقت کے صحرا نے مجھے بخشی ہے ویرانی

بناتی رہ گئی میں ریت پر کیوں آشیانوں کو

صدائے درد نے جو ساز چھیڑا تھا فضاؤں میں

اسی نے حسن بخشا ہے مِرے غمگیں فسانوں کو

Monday, 7 March 2022

ملن رت کے حسیں سپنے ذرا تعبیر کرتے ہیں

 ملن رت کے حسیں سپنے ذرا تعبیر کرتے ہیں

چلو ان چاند تاروں کو یوں ہی تسخیر کرتے ہیں

بنا کر چاند کو کشتی اتر جائیں کنارے پر

بھلا ڈالیں سبھی صدمات جو دلگیر کرتے ہیں

سبھی باتیں سبھی قصے سبھی دکھ بھول کر اپنے

نئے قصے نئی غزلیں کوئی تحریر کرتے ہیں

Thursday, 27 January 2022

تھا سکوت مرگ طاری عمر بھر تالاب میں

 تھا سکوتِ مرگ طاری عمر بھر تالاب میں

توڑ ڈالے میرے ہنگاموں نے در تالاب میں

دائرہ در دائرہ ہے شور سطحِ آب پر

میں نے پھینکا ایک پتھر سوچ کر تالاب میں

سب تصور کے پرندے پر لگا کر اڑ گئے

نقرئی پریاں ہیں تا حدِ نظر تالاب میں

Wednesday, 26 January 2022

دل و نظر میں ہیں کیسی محبتیں دیکھو

 دل و نظر میں ہیں کیسی محبتیں دیکھو

تماشا بن گئیں ہر سو یہ قربتیں دیکھو

لرز اٹھی ہوں میں تکتے ہی چاند کو چھت پر

کہ چاندنی میں بھی چھائی تھیں وحشتیں دیکھو

وہ دور رہ کے بھی مجھ کو دکھائی دیتا ہے

ہیں چشم قلب کو بخشی بصیرتیں دیکھو

Tuesday, 25 January 2022

کوئی الجھن نہ تعفن نہ بلا ہے لوگو

 کوئی الجھن، نہ تعفن، نہ بلا ہے لوگو

آزمائش کی گھڑی ہےکہ وبا ہے لوگو

نہ ہی سجدوں میں تعطل نہ مناجات ہیں کم

وہی رحمٰن سنے گا جو خفا ہے لوگو

زیست موقوف ہے خلوت پہ تو کچھ صبر کریں

بس قرنطینہ میں سانسوں کی بقا ہے لوگو

Monday, 27 September 2021

پیماں وفا کے باندھ کے جانے کدھر گیا

 پیماں وفا کے باندھ کے جانے کدھر گیا

صحرائے ہجر میرے لیے بن بھنور گیا

میری نگاہ شرمگیں جھکتی چلی گئی

اس کا بھی شوق مہر و وفا پر اثر گیا

اک شوخ سی نگاہ جو رخ پر جمی رہی

عارض پہ اک حسین سا غازہ اتر گیا