بجھتی ہوئی سرد شام
آخری دن کا ڈوبتا سورج
تیری چوکھٹ پہ سجدہ ریز
اپنی کرنوں کے خالی کشکول الٹ کر
تھکی ہوئی یخ بستہ نگاہوں سے
میری دنیا کی تاریک راہداریوں میں
بجھتی ہوئی سرد شام
آخری دن کا ڈوبتا سورج
تیری چوکھٹ پہ سجدہ ریز
اپنی کرنوں کے خالی کشکول الٹ کر
تھکی ہوئی یخ بستہ نگاہوں سے
میری دنیا کی تاریک راہداریوں میں
نہیں بھولی بھٹک کر بھی محبت کے ٹھکانوں کو
وہ اپنے عشق کی نگری، وہ بچپن کے زمانوں کو
سدا فرقت کے صحرا نے مجھے بخشی ہے ویرانی
بناتی رہ گئی میں ریت پر کیوں آشیانوں کو
صدائے درد نے جو ساز چھیڑا تھا فضاؤں میں
اسی نے حسن بخشا ہے مِرے غمگیں فسانوں کو
ملن رت کے حسیں سپنے ذرا تعبیر کرتے ہیں
چلو ان چاند تاروں کو یوں ہی تسخیر کرتے ہیں
بنا کر چاند کو کشتی اتر جائیں کنارے پر
بھلا ڈالیں سبھی صدمات جو دلگیر کرتے ہیں
سبھی باتیں سبھی قصے سبھی دکھ بھول کر اپنے
نئے قصے نئی غزلیں کوئی تحریر کرتے ہیں
تھا سکوتِ مرگ طاری عمر بھر تالاب میں
توڑ ڈالے میرے ہنگاموں نے در تالاب میں
دائرہ در دائرہ ہے شور سطحِ آب پر
میں نے پھینکا ایک پتھر سوچ کر تالاب میں
سب تصور کے پرندے پر لگا کر اڑ گئے
نقرئی پریاں ہیں تا حدِ نظر تالاب میں
دل و نظر میں ہیں کیسی محبتیں دیکھو
تماشا بن گئیں ہر سو یہ قربتیں دیکھو
لرز اٹھی ہوں میں تکتے ہی چاند کو چھت پر
کہ چاندنی میں بھی چھائی تھیں وحشتیں دیکھو
وہ دور رہ کے بھی مجھ کو دکھائی دیتا ہے
ہیں چشم قلب کو بخشی بصیرتیں دیکھو
کوئی الجھن، نہ تعفن، نہ بلا ہے لوگو
آزمائش کی گھڑی ہےکہ وبا ہے لوگو
نہ ہی سجدوں میں تعطل نہ مناجات ہیں کم
وہی رحمٰن سنے گا جو خفا ہے لوگو
زیست موقوف ہے خلوت پہ تو کچھ صبر کریں
بس قرنطینہ میں سانسوں کی بقا ہے لوگو
پیماں وفا کے باندھ کے جانے کدھر گیا
صحرائے ہجر میرے لیے بن بھنور گیا
میری نگاہ شرمگیں جھکتی چلی گئی
اس کا بھی شوق مہر و وفا پر اثر گیا
اک شوخ سی نگاہ جو رخ پر جمی رہی
عارض پہ اک حسین سا غازہ اتر گیا