Monday, 7 March 2022

ملن رت کے حسیں سپنے ذرا تعبیر کرتے ہیں

 ملن رت کے حسیں سپنے ذرا تعبیر کرتے ہیں

چلو ان چاند تاروں کو یوں ہی تسخیر کرتے ہیں

بنا کر چاند کو کشتی اتر جائیں کنارے پر

بھلا ڈالیں سبھی صدمات جو دلگیر کرتے ہیں

سبھی باتیں سبھی قصے سبھی دکھ بھول کر اپنے

نئے قصے نئی غزلیں کوئی تحریر کرتے ہیں

جو لفظوں اور معانی سے بہت ہے ماورا پیارے

ہے ابجد سے جو آگے وہ وفا تفسیر کرتے ہیں

بہت منہ زور ہیں دیکھو نکل جائیں نہ ہاتھوں سے

چلو اڑتے ہوئے لمحے یہیں زنجیر کرتے ہیں

حسد کی آگ کے شعلے جو بھڑکاتے ہیں اے لوگو

جلاتے ہیں خود اپنی جاں جو یہ تقصیر کرتے ہیں

شکاری نفس بیٹھا ہے بچھا کر جال ہر لمحہ

چلا کر تیر تقوے کے اسے نخچیر کرتے ہیں

سکوت شب نے دکھلائے نئے تارے تمنا کے

انہیں آنگن میں لانے کی کوئی تدبیر کرتے ہیں

روپہلی شام ہو یا ہوں سویرے ارغوانی سے

شفق رنگوں کے سب منظر مجھے تسخیر کرتے ہیں


نیر رانی شفق

No comments:

Post a Comment