Monday, 7 March 2022

جسم کی ریت بھی مٹھی سے پھسل جائے گی

 جسم کی ریت بھی مُٹھی سے پھسل جائے گی

موت جب روح لیے گھر سے نکل جائے گی

صبح آئے گی جنازے میں لیے سورج کو

یاد ماضی میں اگر رات پگھل جائے گی

اگ کے بس میں نہیں اپنی حفاظت کرنا

تو فقط موم جلا آگ بھی جل جائے گی

خانۂ دل میں بسی چشم لہو مانگیں ہے

سوچتا تھا کہ کھلونے سے بہل جائے گی

شام جب لوٹ گئی چھوڑ کے تنہا تجھ کو

تا مجھے چھوڑ کے اب رات بھی ڈھل جائے گی

اشک نکلے گا دھواں بن کے اسی محفل سے

شمع جب کود کے اس آگ میں جل جائے گی

پاؤں پھسلا تو گرے گی وہ کسی دلدل میں

زندگی موت نہیں ہے کہ سنبھل جائے گی


فیض راحیل

No comments:

Post a Comment