Monday, 7 March 2022

کب تمہیں کچھ خیال ہے صاحب

 کب تمہیں کچھ خیال ہے صاحب

کیا غریبوں کا حال ہے صاحب

آج تم ہو عروج پر تو سنو

اک نہ اک دن زوال ہے صاحب

ایک دن خود تمہیں پھنسا لے گا

یہ جو سازش کا جال ہے صاحب

پھر ہمی پر ہیں آپ کی نظریں

پھر نئی کوئی چال ہے صاحب

بے سبب کیوں غرور کرتے ہو

حسن یہ چند سال ہے صاحب

آپ کے سامنے زباں کھولے

کب کسی کی مجال ہے صاحب

داد ہے آپ کی ذہانت پر

اپنی ماری حلال ہے صاحب

شعر پڑھنا کوئی کمال نہیں

شعر کہنا کمال ہے صاحب

کاش فیصل یوں داد محفل دے

شاعری بے مثال ہے صاحب


فیصل گنوری 

No comments:

Post a Comment