Showing posts with label کوٹھیاوی راہی. Show all posts
Showing posts with label کوٹھیاوی راہی. Show all posts

Wednesday, 7 January 2026

چاند نگریا دھوکا دے گی شاعر کو معلوم نہ تھا

 چاند نگریا دھوکا دے گی شاعر کو معلوم نہ تھا

نظم و غزل کی جوت جلے گی ایسا تو مقسوم نہ تھا

شہرِ ستم میں رہنے والے جانے کہاں روپوش ہوئے

ہاتھ میں سب کے تیغِ ستم تھی جہاں کوئی مظلوم نہ تھا

دل دے کے چاہت پا لینا، چاہت دے کر کربِ جہاں

لیکن وہ نادان نہیں تھا میں بھی کچھ معصوم نہ تھا

Friday, 3 October 2025

اشک گرنے لگے آنکھوں میں گل تر اترا

 اشک گرنے لگے آنکھوں میں گُلِ تر اُترا

پھر مِرے سینۂ احساس میں خنجر اترا

کوئی کوچہ نہ سڑک، گھر نہ محلہ کوئی

چاند کیا دیکھ کے اس شہر کے اندر اترا

دور تک جس کے تعاقب میں گئے تھے ہم بھی

شہ سوار ایسا نہ جانے کہاں جا کر اترا

Thursday, 2 October 2025

جب سے شہر دل کا رکھوالا گیا

 جب سے شہر دل کا رکھوالا گیا

مجھ کو ٹکڑے ٹکڑے کر ڈالا گیا

کوششیں سب رائیگاں ہوتی گئیں

ٹُوٹ کر ہی پاؤں کا چھالا گیا

سانپ سے نیندوں میں لہراتے رہے

خواب کے پنجرے میں کیا پالا گیا

Wednesday, 1 October 2025

جلے گا چاند ستارے دھواں اڑائیں گے

جلے گا چاند ستارے دُھواں اُڑائیں گے 

ہمارے خواب تِری آنکھ میں جب آئیں گے

مِری نظر سے وہ چہرے اُتر نہیں سکتے 

جنہیں یہ اہلِ نظر جلد بھُول جائیں گے

غزل سناؤ، بہلنا بہت ضروری ہے 

ہنسیں گے لوگ ہم آنسو اگر بہائیں گے