دیکھتے ہی رہ گئے ہم زندگی کے جام کو
زندگی کی مے تھی اس میں گُھونٹ بھر بس نام کو
زندگی بھر کشمکش، جدوجہد سے کیا ملا
خواب ہی دیکھا کیے، ترسا کیے انجام کو
زندگی ہم کو تو صحرا کی جُھلستی دھوپ تھی
عمر بھر ترسے جہاں ہم چھاؤں میں آرام کو
کوئی بھی ساقی خُوشی کا جام دے پایا نہیں
تشنہ لب ہم ہاتھ پھیلاتے رہے ایک جام کو
زندگی کی راہ میں کانٹے ہی کانٹے پائے ہیں
ہم نے تو دیکھا نہیں گُل کو کسی گُلفام کو
آبلہ پا ہم تو بسمل! دشت میں بھٹکا کیے
ڈھونڈتے پھرتے رہے ایک پیار کے پیغام کو
دیوداس بسمل
No comments:
Post a Comment