یوں سانس لے رہے ہیں کہ جینا محال ہے
زندہ ہیں پھر بھی ہم، یہ ہمارا کمال ہے
تُو لاکھ شیشہ گر سہی، اتنا مجھے بتا
جائے گا کیسے شیشۂ دل میں جو بال ہے
پھر زخمِ دل سے تازہ لہو پھُوٹنے لگا
باقی ابھی تو مرحلۂ اندمال ہے
شاید کہ یہ بھی گردشِ دوراں سے ڈر گیا
سہما ہوا سا قافلۂ ماہ و سال ہے
وہ ہم سے مل گئے ہیں، ملے ہیں مگر کہاں
حامد! غمِ فراق شریکِ وصال ہے
حامد لطیف
No comments:
Post a Comment