Showing posts with label انور مرزا پوری. Show all posts
Showing posts with label انور مرزا پوری. Show all posts

Wednesday, 2 September 2020

میں تو سمجھا تھا جس وقت مجھ کو وہ ملیں گے تو جنت ملے گی

میں تو سمجھا تھا جس وقت مجھ کو وہ ملیں گے تو جنت ملے گی
کیا خبر تھی رہِ عاشقی میں ساتھ ان کے قیامت ملے گی
میں نہیں جانتا تھا کہ مجھ کو یہ محبت کی قیمت ملے گی
آنسوؤں کا خزانہ ملے گا، چاک دامن کی دولت ملے گی
پھول سمجھے نہ تھے زندگانی اس قدر خوبصورت ملے گی
اشک بن کر تبسم ملے گا،۔ درد بن کر مسرت ملے گی

کسی صورت بھی نیند آتی نہیں میں کیسے سو جاؤں

کسی صورت بھی نیند آتی نہیں، میں کیسے سو جاؤں
کوئی شے دل کو بہلاتی نہیں، میں کیسے سو جاؤں
اکیلا پا کے مجھ کو یاد ان کی آ تو جاتی ہے
مگر پھر لوٹ کر جاتی نہیں، میں کیسے سو جاؤں
جو خوابوں میں مِرے آ کر تسلی مجھ کو دیتی تھی
وہ صورت اب نظر آتی نہیں، میں کیسے سو جاؤں

Saturday, 7 November 2015

رخ سے پردہ اٹھا دے ذرا ساقیا بس ابھی رنگ محفل بدل جائے گا

رخ سے پردہ اٹھا دے ذرا ساقیا! بس ابھی رنگِ محفل بدل جائے گا
ہے جو بیہوش وہ ہوش میں آئے گا، گرنے والا ہے جو وہ سنبھل جائے گا
لوگ سمجھے تھے یہ انقلاب آتے ہی نظمِ کہنہ چمن کا بدل جائے گا
یہ خبر کس کو تھی آتشِ گُل سے ہی، تنکا تنکا نشیمن کا جل جائے گا
تم تسلی نہ دو صرف بیٹھے رہو، وقت کچھ میرے مرنے کا ٹل جائے گا
کیا یہ کم ہے مسیحا کے رہنے ہی سے، موت کا بھی ارادہ بدل جائے گا

وعدہ شام فردا پہ اے دل مجھے گر یقیں ہی نہ آئے

وعدۂ شامِ فردا پہ اے دل مجھے گر یقیں ہی نہ آئے تو میں کیا کروں
ان کی جھوٹی تسلی کے طوفان میں نبضِ دل ڈوب جائے تو میں کیا کروں
میں نے مانگی تھی یہ مسجدوں میں دعا، میں جسے چاہتا ہوں وہ مجھ کو ملے
جو مِرا فرض تھا میں نے پورا کِیا، اب خدا بھول جائے تو میں کیا کروں
سارے جھگڑے اگر میرے جینے کے ہیں تو گلا گھونٹ دو میں بھی بیزار ہوں
موت اب تک تو دامن بچاتی رہی، تُو بھی دامن بچائے تو میں کیا کروں

اس واسطے دامن چاک کیا شاید یہ جنوں کام آ جائے

اس واسطے دامن چاک کیا شاید یہ جنوں کام آ جائے
دیوانہ سمجھ کر ہی ان کے ہونٹوں پہ مِرا نام آ جائے
میں خوش ہوں اگر گُلشن کے لیے کچھ میرا لہو کام آ جائے
لیکن مجھ کو ڈَر ہے، اس کا گلچیں پہ نہ الزام آ جائے
اے کاش ہماری قسمت میں ایسی بھی کوئی شام آ جائے
اِک چاند فلک پر نکلا ہو، اِک چاند سرِ بام آ جائے

یہاں کانپ جاتے ہیں فلسفی یہ بڑا عجیب مقام ہے

یہاں کانپ جاتے ہیں فلسفی یہ بڑا عجیب مقام ہے
جسے اپنا اپنا خدا کہیں، اسے سجدہ کرنا حرام ہے
مِری بے رُخی سے نہ ہو خفا، مِرے ناصحا! مجھے یہ بتا
جو نظر سے پیتا ہوں میں یہاں، وہ شراب کیسے حرام ہے
جو پتنگا لَو پہ فِدا ہُوا تو تڑپ کے شمع نے یہ کہا
اسے میرے درد سے کیا غرض، یہ تو روشنی کا غلام ہے

مجھے قید کرنے والے تجھے یہ خبر نہیں ہے

مجھے قید کرنے والے تجھے یہ خبر نہیں ہے
تِری ذہنیت کا غم ہے، غمِ بال و پر نہیں ہے
یہ اداس کیوں ہوئے تم مجھے کچھ خبر نہیں ہے
ابھی داستانِ غم بھی تو شباب پر نہیں ہے
میں چمن کی ذمہ داری ابھی اپنے سر نہ لوں گا
مِرے باغباں کا وعدہ، ابھی معتبر نہیں ہے

Saturday, 14 December 2013

میں نظر سے پی رہا ہوں یہ سماں بدل نہ جائے

میں نظر سے پی رہا ہوں یہ سماں بدل نہ جائے
نہ ٭جُھکاوو تم نگاہیں، کہیں رات ڈھل نہ جائے
ابھی رات کچھ ہے باقی، نہ اٹھا نقاب ساقی
تِرا رِند گِرتے گِرتے کہیں پھر سنبھل نہ جائے
مِری زندگی کے مالک مِرے دل پہ ہاتھ رکھ دے
تِرے آنے کی خوشی میں مِرا دَم نکل نہ جائے