Saturday, 7 November 2015

مجھے قید کرنے والے تجھے یہ خبر نہیں ہے

مجھے قید کرنے والے تجھے یہ خبر نہیں ہے
تِری ذہنیت کا غم ہے، غمِ بال و پر نہیں ہے
یہ اداس کیوں ہوئے تم مجھے کچھ خبر نہیں ہے
ابھی داستانِ غم بھی تو شباب پر نہیں ہے
میں چمن کی ذمہ داری ابھی اپنے سر نہ لوں گا
مِرے باغباں کا وعدہ، ابھی معتبر نہیں ہے
میں چلا جو سجدہ کرنے مِرے دل نے یہ صدا دی
یہ ہے میکدے کی چوکھٹ، یہ حرم کا در نہیں ہے

انور مرزا پوری

No comments:

Post a Comment