مجھے قید کرنے والے تجھے یہ خبر نہیں ہے
تِری ذہنیت کا غم ہے، غمِ بال و پر نہیں ہے
یہ اداس کیوں ہوئے تم مجھے کچھ خبر نہیں ہے
ابھی داستانِ غم بھی تو شباب پر نہیں ہے
میں چمن کی ذمہ داری ابھی اپنے سر نہ لوں گا
میں چلا جو سجدہ کرنے مِرے دل نے یہ صدا دی
یہ ہے میکدے کی چوکھٹ، یہ حرم کا در نہیں ہے
انور مرزا پوری
No comments:
Post a Comment