Showing posts with label نظیر علی عدیل. Show all posts
Showing posts with label نظیر علی عدیل. Show all posts

Friday, 6 October 2023

اک نیا ہے باب یہ تاریخ کے ابواب میں

 اک نیا ہے باب یہ تاریخ کے ابواب میں

بچ گئے ہم دشمنوں سے لُٹ گئے احباب میں

ہونے دو دشمن کو شامل حلقۂ احباب میں

ایک قطرے کی حقیقت کیا ہے اک تالاب میں

آنکھ ہے نکھری ہوئی سی آنسوؤں میں ڈوب کر

اس سفینے کا مقدر جاگ اُٹھا سیلاب میں

Tuesday, 1 August 2023

جب ڈھونڈنے اس کا در گئے ہم

 جب ڈھونڈنے اس کا در گئے ہم

در تو نہ ملا، بکھر گئے ہم

سب سمجھے یہی کہ مر گئے ہم

دن ڈھلنے لگا تھا، گھر گئے ہم

بچھڑی نہ کسی کی یاد ہم سے

ہمراہ رہی، جدھر گئے ہم

Saturday, 1 July 2023

ایک آنسو کے ٹپک جانے سے غم افشا ہوا

 ایک آنسو کے ٹپک جانے سے غم افشا ہوا

تھا سمندر کا سمندر، بُوند میں ٹھہرا ہوا

یاد ہے کل ہم ملے تھے پھر نہ جانے کیا ہوا

وہ بھی کچھ کھوئے ہوئے تھے میں بھی کچھ کویا ہوا

اپنی اپنی راہ سے نکلے تھے یاران خودی

سب سے پہلے آ گیا میں دار سے ہوتا ہوا

Thursday, 22 June 2023

بخشش کے واسطے کئی آسانیاں بھی ہیں

 بخشش کے واسطے کئی آسانیاں بھی ہیں

رحمت بھی ہے ہماری پشیمانیاں بھی ہیں

ویسے تو زندگی میں پریشانیاں بھی ہیں

ماں کی دُعا ہو ساتھ تو آسانیاں بھی ہیں

آنچل ہے رُخ پہ پھر بھی ہیں نظریں جُھکی ہوئی

یعنی حیا میں ان کی پشیمانیاں بھی ہیں

Wednesday, 14 June 2023

رخ پر ہے مرنے والے کے رنج و محن کا رنگ

 رخ پر ہے مرنے والے کے رنج و محن کا رنگ

یا ہے یہ عمر بھر کی مسلسل تھکن کا رنگ

لگتا ہے وصل و ہجر میں ایسا وطن کا رنگ

جنگل میں جنگل اور چمن میں چمن کا رنگ

الفاظ کے بغیر کوئی ہم کلام ہے

ہے مسکراہٹوں میں سخن در سخن کا رنگ

Monday, 5 June 2023

کسی کی چاہ کا دل نے جب اعتراف کیا

 کسی کی چاہ کا دل نے جب اعتراف کیا

خرد نے کیوں نہیں معلوم اختلاف کیا

خدا نے اس طرح کلمے میں اعتراف کیا

کہ اپنے نام سے اس نام کو مضاف کیا

نہ پائی شہر میں جب اپنے دل کی یکسوئی

تو جا کے دشت میں مجنوں نے اعتکاف کیا

Sunday, 4 June 2023

کیے جاتا ہے تماشا تری رعنائی کا

 کیے جاتا ہے تماشا تِری رعنائی کا

کیا کلیجہ ہے حقیقت میں تماشائی کا

رکھ بھرم یا رب محشر میں دل شیدائی کا

حشر تو اک بڑا بازار ہے رُسوائی کا

حُسن نے کر دیا قابیل کو اندھا، ورنہ

خون کرتا نہ کبھی اپنے سگے بھائی کا