اک نیا ہے باب یہ تاریخ کے ابواب میں
بچ گئے ہم دشمنوں سے لُٹ گئے احباب میں
ہونے دو دشمن کو شامل حلقۂ احباب میں
ایک قطرے کی حقیقت کیا ہے اک تالاب میں
آنکھ ہے نکھری ہوئی سی آنسوؤں میں ڈوب کر
اس سفینے کا مقدر جاگ اُٹھا سیلاب میں
اک نیا ہے باب یہ تاریخ کے ابواب میں
بچ گئے ہم دشمنوں سے لُٹ گئے احباب میں
ہونے دو دشمن کو شامل حلقۂ احباب میں
ایک قطرے کی حقیقت کیا ہے اک تالاب میں
آنکھ ہے نکھری ہوئی سی آنسوؤں میں ڈوب کر
اس سفینے کا مقدر جاگ اُٹھا سیلاب میں
جب ڈھونڈنے اس کا در گئے ہم
در تو نہ ملا، بکھر گئے ہم
سب سمجھے یہی کہ مر گئے ہم
دن ڈھلنے لگا تھا، گھر گئے ہم
بچھڑی نہ کسی کی یاد ہم سے
ہمراہ رہی، جدھر گئے ہم
ایک آنسو کے ٹپک جانے سے غم افشا ہوا
تھا سمندر کا سمندر، بُوند میں ٹھہرا ہوا
یاد ہے کل ہم ملے تھے پھر نہ جانے کیا ہوا
وہ بھی کچھ کھوئے ہوئے تھے میں بھی کچھ کویا ہوا
اپنی اپنی راہ سے نکلے تھے یاران خودی
سب سے پہلے آ گیا میں دار سے ہوتا ہوا
بخشش کے واسطے کئی آسانیاں بھی ہیں
رحمت بھی ہے ہماری پشیمانیاں بھی ہیں
ویسے تو زندگی میں پریشانیاں بھی ہیں
ماں کی دُعا ہو ساتھ تو آسانیاں بھی ہیں
آنچل ہے رُخ پہ پھر بھی ہیں نظریں جُھکی ہوئی
یعنی حیا میں ان کی پشیمانیاں بھی ہیں
رخ پر ہے مرنے والے کے رنج و محن کا رنگ
یا ہے یہ عمر بھر کی مسلسل تھکن کا رنگ
لگتا ہے وصل و ہجر میں ایسا وطن کا رنگ
جنگل میں جنگل اور چمن میں چمن کا رنگ
الفاظ کے بغیر کوئی ہم کلام ہے
ہے مسکراہٹوں میں سخن در سخن کا رنگ
کسی کی چاہ کا دل نے جب اعتراف کیا
خرد نے کیوں نہیں معلوم اختلاف کیا
خدا نے اس طرح کلمے میں اعتراف کیا
کہ اپنے نام سے اس نام کو مضاف کیا
نہ پائی شہر میں جب اپنے دل کی یکسوئی
تو جا کے دشت میں مجنوں نے اعتکاف کیا
کیے جاتا ہے تماشا تِری رعنائی کا
کیا کلیجہ ہے حقیقت میں تماشائی کا
رکھ بھرم یا رب محشر میں دل شیدائی کا
حشر تو اک بڑا بازار ہے رُسوائی کا
حُسن نے کر دیا قابیل کو اندھا، ورنہ
خون کرتا نہ کبھی اپنے سگے بھائی کا