چہرے
نفسیات کے ماہرِ دِیں کی جانکاری ہے
پیری اور مُریدی بھی شاعری بھی جاری ہے
چہرے پر ریاکاری، جیب تولتی آنکھیں
ہر گھڑی نصیحت کی ہاتھ میں پٹاری ہے
تول کر کریں باتیں، ناپ کر قدم رکھیں
مُسکراہٹیں عنقا، بات کاروباری ہے
مےکدہ بھی پڑتا ہے راستے میں مسجد کے
یہ بھی شغل جاری ہے، وہ بھی شغل جاری ہے
کس کی بات مانیں ہم، کس کی راہ اپنائیں
راہبر ہے نام اس کا، اصل میں مداری ہے
کنیز فاطمہ کرن
No comments:
Post a Comment