آہ بے تاثیر ہے نالہ رسا کوئی نہیں
درد وہ مجھ کو مِلا جس کی دوا کوئی نہیں
دیکھتا ہوں راہ میں مُڑ مُڑ کے ہر چہرے کو میں
ہمسفر کتنے ہیں لیکن ہمنوا کوئی نہیں
اس سے بڑھ کر اور کیا ہو گا عذابِ زندگی
آنکھ سب رکھتے ہیں لیکن دیکھتا کوئی نہیں
پڑھتے ہیں اس دور کے اربابِ دانش روز و شب
وہ صحیفے جن میں کہ بابِ دُعا کوئی نہیں
وقت پر جو کام آ جائے اسے اچھا کہو
اے دلِ مُضطر! یہاں اچھا بُرا کوئی نہیں
آگہی کے زعم میں کتنے بنا ڈالے تھے رُوپ
اب کُھلا کہ اپنا ہی نام و پتہ کوئی نہیں
ترجمان خار و خس احمد ہے پُوچھو ان کا حال
لالہ و گُل کے جہاں سے واسطہ کوئی نہیں
الطاف احمد اعظمی
No comments:
Post a Comment