اک پھول جیسی شکل نظر آ گئی کوئی
خوشبو کے ساتھ ساتھ چلی تازگی کوئی
اس شہرِ بے چراغ کی وحشت پہ کیا کہوں
اپنا بھی لگ رہا ہے مجھے اجنبی کوئی
پتھر مزاج مجھ کو دکھانے سے پیشتر
ثابت تو کر، کہ تو بھی نہیں سامری کوئی
چلتے ہوئے ہیولے نظر آتے ہیں مجھے
اب ڈھونڈنے سے ملتا نہیں آدمی کوئی
ہجرت میں کر تو لوں گا کسی دشت کی طرف
سمجھے گا کیا، وہاں مِری دیوانگی کوئی
خواہش نگر پہ یاد کے بادل برس گئے
مہکی ہوئی ہے درد سے دل کی گلی کوئی
وہ خواب تھا کہ رت تھی کسی کے وصال کی
جادو جگا رہی تھی دلوں میں خوشی کوئی
عادس! چلے ہیں ہم بھی زمانے کے ساتھ ساتھ
پائی کسی مقام سے نسبت کبھی کوئی
امجد شبیر عادس
No comments:
Post a Comment