Friday, 2 October 2026

غم دل کی دوا کوئی نہیں ہے

 غم دل کی دوا کوئی نہیں ہے

ہمیں ان سے گلہ کوئی نہیں ہے

وفا کے راستوں میں کھو گیا دل

کہاں ڈھونڈوں پتا کوئی نہیں ہے

جھکا دوں گا میں سر قدموں پہ جس کے

وہ تم ہو دوسرا کوئی نہیں ہے

بہت دیکھے ہیں دل والوں کے جمگھٹ

یہاں اہل وفا کوئی نہیں ہے

بنا تیرے جیے جاتا ہوں لیکن

بنا تیرے مزا کوئی نہیں ہے

پشیماں ہوں میں اپنی عاشقی پر

نہیں تم سے گلہ کوئی نہیں ہے

زباں ہرگز نہ کہہ پائے گی عالم

ہمیں اب چاہتا کوئی نہیں ہے


عالم بریلوی

مقصود عالم خاں

No comments:

Post a Comment