غم دل کی دوا کوئی نہیں ہے
ہمیں ان سے گلہ کوئی نہیں ہے
وفا کے راستوں میں کھو گیا دل
کہاں ڈھونڈوں پتا کوئی نہیں ہے
جھکا دوں گا میں سر قدموں پہ جس کے
وہ تم ہو دوسرا کوئی نہیں ہے
بہت دیکھے ہیں دل والوں کے جمگھٹ
یہاں اہل وفا کوئی نہیں ہے
بنا تیرے جیے جاتا ہوں لیکن
بنا تیرے مزا کوئی نہیں ہے
پشیماں ہوں میں اپنی عاشقی پر
نہیں تم سے گلہ کوئی نہیں ہے
زباں ہرگز نہ کہہ پائے گی عالم
ہمیں اب چاہتا کوئی نہیں ہے
عالم بریلوی
مقصود عالم خاں
No comments:
Post a Comment