سمندر میں بہا آؤں
وہ یادوں سے بھرا البم
وہ سارے کارڈز
پھولوں کے سبھی تحفے
وہ لمحے خواب کے جیسے
فضاؤں میں رچی خوشبو
خلاؤں کے سفر پر ہے
سمندر میں بہا آؤں
وہ یادوں سے بھرا البم
وہ سارے کارڈز
پھولوں کے سبھی تحفے
وہ لمحے خواب کے جیسے
فضاؤں میں رچی خوشبو
خلاؤں کے سفر پر ہے
ملی نغمہ
اے وطن اے وطن جانِ من جانِ من
من بھی تجھ پر فدا اور فدا تجھ پہ تن
جان تُو ہے مِری تُو مِری شان ہے
میرا ہر خواب تُو میرا ارمان ہے
تیری مٹی ہی تو میری پہچان ہے
میری جنت ہیں تیرے یہ کوہ و دمن
رائیگاں سفر اپنا
بے ہنر زمانے میں
رائیگاں سفر اپنا
خوف کے بیاباں میں
سُوجھتا نہیں کچھ بھی
بد گُمانی پلتی ہے
سائباں ہی جب اپنا
سچ تمہارا دشمن ہے
کاٹو میرے ذہن کو آ کر
لاؤ چھری، خنجر، تلواریں
یہ ذہن تمہارا دشمن ہے
یہ ذہن تمہاری سوچ کے
بند کواڑوں پہ اکثر
کوندا بن کے چمکتا ہے
تم کو اپنا بنائے بیٹھے ہیں
اپنی ہستی مٹائے بیٹھے ہیں
ہم کہیں اور جا نہیں سکتے
خواب سارے جلائے بیٹھے ہیں
تم سے ملنا بھی حادثہ ٹھہرا
داغ دل کے سجائے بیٹھے ہیں
کبھی ساکت نہیں رہتی
زندگی کا مزاج اپنا ہے
یہ لہروں کی طرح شوریدہ سر ہے
اُبھرتی ڈوبتی ہے پھر اُبھرتی ہے
ہوا کے دوش چلتی ہے
ہوا اُونچا اُڑاتی ہے
کبھی ساکت نہیں رہتی