Showing posts with label سحر حسن. Show all posts
Showing posts with label سحر حسن. Show all posts

Thursday, 12 February 2026

سمندر میں بہا آؤں سب لمحے سبھی یادیں سبھی منظر

 سمندر میں بہا آؤں


وہ یادوں سے بھرا البم

وہ سارے کارڈز

پھولوں کے سبھی تحفے

وہ لمحے خواب کے جیسے

فضاؤں میں رچی خوشبو

خلاؤں کے سفر پر ہے

Thursday, 15 May 2025

اے وطن اے وطن جان من جان من

 ملی نغمہ 


اے وطن اے وطن جانِ من جانِ من

من بھی تجھ پر فدا اور فدا تجھ پہ تن


جان تُو ہے مِری تُو مِری شان ہے

میرا ہر خواب تُو میرا ارمان ہے

تیری مٹی ہی تو میری پہچان ہے

میری جنت ہیں تیرے یہ کوہ و دمن

Monday, 28 April 2025

بے ہنر زمانے میں رائیگاں سفر اپنا

 رائیگاں سفر اپنا


بے ہنر زمانے میں

رائیگاں سفر اپنا

خوف کے بیاباں میں

سُوجھتا نہیں کچھ بھی

بد گُمانی پلتی ہے

سائباں ہی جب اپنا

Wednesday, 5 March 2025

سچ تمہارا دشمن ہے جسے پینا مشکل ہوتا ہے

 سچ تمہارا دشمن ہے


کاٹو میرے ذہن کو آ کر

لاؤ چھری، خنجر، تلواریں

یہ ذہن تمہارا دشمن ہے

یہ ذہن تمہاری سوچ کے

بند کواڑوں پہ اکثر

کوندا بن کے چمکتا ہے

Wednesday, 11 December 2024

تم کو اپنا بنائے بیٹھے ہیں

 تم کو اپنا بنائے بیٹھے ہیں

اپنی ہستی مٹائے بیٹھے ہیں

ہم کہیں اور جا نہیں سکتے

خواب سارے جلائے بیٹھے ہیں

تم سے ملنا بھی حادثہ ٹھہرا

داغ دل کے سجائے بیٹھے ہیں

Sunday, 5 December 2021

زندگی کا مزاج اپنا ہے یہ کبھی ساکت نہیں رہتی

کبھی ساکت نہیں رہتی


زندگی کا مزاج اپنا ہے

یہ لہروں کی طرح شوریدہ سر ہے

اُبھرتی ڈوبتی ہے پھر اُبھرتی ہے

ہوا کے دوش چلتی ہے

ہوا اُونچا اُڑاتی ہے

کبھی ساکت نہیں رہتی