اُفق سے دُور بہت دُور دیکھ سکتا ہوں
تِری زمیں سے بڑی اک زمیں پہ تنہا ہوں
وہ خُوش ہوا ہے نہ غمگین اس خبر سے مگر
ضرور تھا کہ کہوں خیریت سے اچھا ہوں
ذرا قریب سے پُوچھو؛ کرے گا سرگوشی
میں آدمی تو نہیں آدمی کا دھوکا ہوں
اُفق سے دُور بہت دُور دیکھ سکتا ہوں
تِری زمیں سے بڑی اک زمیں پہ تنہا ہوں
وہ خُوش ہوا ہے نہ غمگین اس خبر سے مگر
ضرور تھا کہ کہوں خیریت سے اچھا ہوں
ذرا قریب سے پُوچھو؛ کرے گا سرگوشی
میں آدمی تو نہیں آدمی کا دھوکا ہوں
نرمیاں ہیں تمہاری بولی میں
اور پتھر پڑے ہیں جھولی میں
سج گئی میری سوچ کی دھرتی
رنگ اس نے بھرے رنگولی میں
یوں ہوا پھر پگھل گیا منظر
صبح سورج اگا جو کھولی میں
میرے موتی ہیں خذف خاک ہے میرا سونا
میری تحریر کو آیا نہ قصیدہ ہونا
کب تلک سانپ کے پہرے کا تماشا اے دل
میرا گھر ہے مِرے اجداد کا چاندی سونا
آخری داؤ لگانے کی گھڑی آ پہنچی
بس بہت کھیل چکے کھیل یہ پانا کھونا
سبز ہاتھ
چمچماتی سر پہ بے سایہ ببول
تھرتھراتا ایک صحرا دھوپ رنگ
جس طرف جاؤں چلے چلے یہ سنگ سنگ
بے صدا بے آب بارش سلسلہ
دھول شعلہ قطرہ قطرہ آبلہ
سورجوں کے سائے میں چلتے ہوئے