Showing posts with label سید صفدر. Show all posts
Showing posts with label سید صفدر. Show all posts

Sunday, 17 May 2026

تری زمیں سے بڑی اک زمیں پہ تنہا ہوں

 اُفق سے دُور بہت دُور دیکھ سکتا ہوں

تِری زمیں سے بڑی اک زمیں پہ تنہا ہوں

وہ خُوش ہوا ہے نہ غمگین اس خبر سے مگر

ضرور تھا کہ کہوں خیریت سے اچھا ہوں

ذرا قریب سے پُوچھو؛ کرے گا سرگوشی

میں آدمی تو نہیں آدمی کا دھوکا ہوں

Friday, 11 July 2025

نرمیاں ہیں تمہاری بولی میں

 نرمیاں ہیں تمہاری بولی میں

اور پتھر پڑے ہیں جھولی میں

سج گئی میری سوچ کی دھرتی

رنگ اس نے بھرے رنگولی میں

یوں ہوا پھر پگھل گیا منظر

صبح سورج اگا جو کھولی میں

Monday, 7 July 2025

بس بہت کھیل چکے کھیل یہ پانا کھونا

 میرے موتی ہیں خذف خاک ہے میرا سونا

میری تحریر کو آیا نہ قصیدہ ہونا

کب تلک سانپ کے پہرے کا تماشا اے دل

میرا گھر ہے مِرے اجداد کا چاندی سونا

آخری داؤ لگانے کی گھڑی آ پہنچی

بس بہت کھیل چکے کھیل یہ پانا کھونا

Sunday, 27 December 2020

تھرتھراتا ایک صحرا دھوپ رنگ

سبز ہاتھ


چمچماتی سر پہ بے سایہ ببول

تھرتھراتا ایک صحرا دھوپ رنگ

جس طرف جاؤں چلے چلے یہ سنگ سنگ

بے صدا بے آب بارش سلسلہ

دھول شعلہ قطرہ قطرہ آبلہ

سورجوں کے سائے میں چلتے ہوئے