کھوج
اداس شامیں
شکستہ سانسیں
یہ کانپتے ہونٹ، سرد آہیں
اجاڑ راہوں پہ لمحہ لمحہ لگی نگاہیں
بس اب تو خود کو ہی کھوجتی ہیں
کھوج
اداس شامیں
شکستہ سانسیں
یہ کانپتے ہونٹ، سرد آہیں
اجاڑ راہوں پہ لمحہ لمحہ لگی نگاہیں
بس اب تو خود کو ہی کھوجتی ہیں
مانگ کر چاند ستاروں سے ضیاء لایا تھا
یوں مِرے درد کی وہ شخص دوا لایا تھا
میرے ماتھے پہ محبت کا سجا کر جھومر
میرے ہاتھوں کے لیے رنگِ حنا لایا تھا
میں شبِ غم میں جو نیندوں کے سفر پر نکلی
میری آنکھوں کے لیے خواب نیا لایا تھا
عارفانہ کلام منقبت سلام مرثیہ
زیرِ عتاب کربلا
اک اضطراب کربلا
کرب و بلا کی داستاں
آہوں کا باب کربلا
ہوتا رہا لہو لہو
پل پل سراب کربلا
بشارتوں کے دِیے جلائے کوئی تو آئے
کہ سایۂ رنج و غم مٹائے کوئی تو آئے
کوئی تو آئے وفا کے نغمے سنانے والا
محبتوں کے بھرم نبھائے کوئی تو آئے
جہاں بہاروں میں نوچے جاتے ہوں سبز پتے
وہاں خزاؤں میں گُل کھلائے کوئی تو آئے
سوئے ہیں جو درد جگا دوں آخر کیوں
اشکوں کی سوغات لُٹا دوں آخر کیوں
دنیا کا تو کام ہی باتیں کرنا ہے
سن کر خود کو روز سزا دوں آخر کیوں
چلتا پھرتا ایک تماشا بن جاؤں
اپنے من کا بھید بتا دوں آخر کیوں
👁مری ہر ادا ہوئی بے اثر جو نظر کا جام پلا دیا👁
گلے ڈھول ڈال کے عشق کا مجھے بے خودی میں نچا دیا
تری بے رخی جو قبول کی تجھے یوں تو دل سے بھلا دیا
شبِ ہجر میں تری فکر میں مگر اپنا آپ گنوا دیا
مرا ہاتھ، ہاتھ سے چھوڑ کر مرے خونِ دل کو نچوڑ کر
یوں مرے وجود کو توڑ کر مری خاک تک کو اڑا دیا