Showing posts with label شیریں سید. Show all posts
Showing posts with label شیریں سید. Show all posts

Tuesday, 15 March 2022

اداس شامیں شکستہ سانسیں

 کھوج


اداس شامیں

شکستہ سانسیں

یہ کانپتے ہونٹ، سرد آہیں

اجاڑ راہوں پہ لمحہ لمحہ لگی نگاہیں

بس اب تو خود کو ہی کھوجتی ہیں

Friday, 18 February 2022

مانگ کر چاند ستاروں سے ضیا لایا تھا

 مانگ کر چاند ستاروں سے ضیاء لایا تھا

یوں مِرے درد کی وہ شخص دوا لایا تھا

میرے ماتھے پہ محبت کا سجا کر جھومر

میرے ہاتھوں کے لیے رنگِ حنا لایا تھا

میں شبِ غم میں جو نیندوں کے سفر پر نکلی

میری آنکھوں کے لیے خواب نیا لایا تھا

Friday, 28 January 2022

غم کی کتاب کربلا

 عارفانہ کلام منقبت سلام مرثیہ


زیرِ عتاب کربلا

اک اضطراب کربلا

کرب و بلا کی داستاں

آہوں کا باب کربلا

ہوتا رہا لہو لہو

پل پل سراب کربلا

Friday, 16 April 2021

بشارتوں کے دیے جلائے کوئی تو آئے

 بشارتوں کے دِیے جلائے کوئی تو آئے

کہ سایۂ رنج و غم مٹائے کوئی تو آئے

کوئی تو آئے وفا کے نغمے سنانے والا

محبتوں کے بھرم نبھائے کوئی تو آئے

جہاں بہاروں میں نوچے جاتے ہوں سبز پتے

وہاں خزاؤں میں گُل کھلائے کوئی تو آئے

Wednesday, 3 March 2021

سوئے ہیں جو درد جگا دوں آخر کیوں

سوئے ہیں جو درد جگا دوں آخر کیوں

اشکوں کی سوغات لُٹا دوں آخر کیوں

دنیا کا تو کام ہی باتیں کرنا ہے

سن کر خود کو روز سزا دوں آخر کیوں

چلتا پھرتا ایک تماشا بن جاؤں

اپنے من کا بھید بتا دوں آخر کیوں

Monday, 16 November 2020

مری ہر ادا ہوئی بے اثر جو نظر کا جام پلا دیا

👁مری ہر ادا ہوئی بے اثر جو نظر کا جام پلا دیا👁

گلے ڈھول ڈال کے عشق کا مجھے بے خودی میں نچا دیا

تری بے رخی جو قبول کی تجھے یوں تو دل سے بھلا دیا

شبِ ہجر میں تری فکر میں مگر اپنا آپ گنوا دیا

مرا ہاتھ، ہاتھ سے چھوڑ کر مرے خونِ دل کو نچوڑ کر

یوں مرے وجود کو توڑ کر مری خاک تک کو اڑا دیا