مانگ کر چاند ستاروں سے ضیاء لایا تھا
یوں مِرے درد کی وہ شخص دوا لایا تھا
میرے ماتھے پہ محبت کا سجا کر جھومر
میرے ہاتھوں کے لیے رنگِ حنا لایا تھا
میں شبِ غم میں جو نیندوں کے سفر پر نکلی
میری آنکھوں کے لیے خواب نیا لایا تھا
راہ بھٹکی جو اماوس کی سیہ راتوں میں
کوئی جگنو ہی ہتھیلی پہ اٹھا لایا تھا
تلخ لہجوں کی اذیت ہی تو جھیلی اس نے
واسطے سب کے جو آداب بجا لایا تھا
کھو گیا بھیڑ میں کیوں ہاتھ چھڑا کر شیریں
جو مسافر مِری منزل کا پتہ لایا تھا
شیریں سید
No comments:
Post a Comment