لگا کے سرمہ سجا کے آنکھیں
حسیں ہتھیلی میں اک چنبیلی کا پھول لے کے
وہ یونیورسٹی کے لان میں جب بھی گھومتی ہے
تو ایسے لگتا ہے
جیسے پھولوں پہ ایک تتلی مچل رہی ہو
کہ جیسے جنگل میں مورنی اک ٹہل رہی ہو
کہ جیسے پت جھڑ میں سات رنگوں کی اک دھنک ہو
کہ جیسے شاعر کی شاعری میں بس ایک ہی مصرع دلنشیں ہو
بہت حسیں ہو
کبھی وہ گلدان چُھو کے پھولوں کو تازگی دے
کبھی کتابیں کبھی موبائل کبھی وہ کمروں میں جھانکتی ہے
اسے خبر بھی نہیں ہے عابد
کہ اس کی آنکھوں کے معجزے سے
تمام یونی بہشت سی ہے
اسے خبر بھی نہیں ہے کہ اک اداس لڑکا
اسے یوں حسرت سے دیکھتا ہے
کہ جس طرح عید پر لگن سے یہ لوگ پہلی کا چاند دیکھیں
اسے خبر بھی نہیں ہے
جو لوگ سب وباؤں سے بچ گئے تھے
وہ اس کی آنکھوں سے مر رہے ہیں
علی عابد
No comments:
Post a Comment