Friday, 18 February 2022

لگا کے سرمہ سجا کے آنکھیں

 لگا کے سرمہ سجا کے آنکھیں

حسیں ہتھیلی میں اک چنبیلی کا پھول لے کے

وہ یونیورسٹی کے لان میں جب بھی گھومتی ہے

تو ایسے لگتا ہے 

جیسے پھولوں پہ ایک تتلی مچل رہی ہو

کہ جیسے جنگل میں مورنی اک ٹہل رہی ہو

کہ جیسے پت جھڑ میں سات رنگوں کی اک دھنک ہو

کہ جیسے شاعر کی شاعری میں بس ایک ہی مصرع دلنشیں ہو

بہت حسیں ہو

کبھی وہ گلدان چُھو کے پھولوں کو تازگی دے

کبھی کتابیں کبھی موبائل کبھی وہ کمروں میں جھانکتی ہے

اسے خبر بھی نہیں ہے عابد

کہ اس کی آنکھوں کے معجزے سے

تمام یونی بہشت سی ہے

اسے خبر بھی نہیں ہے کہ اک اداس لڑکا

اسے یوں حسرت سے دیکھتا ہے

کہ جس طرح عید پر لگن سے یہ لوگ پہلی کا چاند دیکھیں

اسے خبر بھی نہیں ہے 

جو لوگ سب وباؤں سے بچ گئے تھے

وہ اس کی آنکھوں سے مر رہے ہیں


علی عابد

No comments:

Post a Comment