Showing posts with label چراغ جے پوری. Show all posts
Showing posts with label چراغ جے پوری. Show all posts

Sunday, 17 January 2021

یہ حسیں جواں نظارے یہ بہار یاد رکھنا

 گیت/غزل


یہ حسیں جواں نظارے یہ بہار یاد رکھنا

او دور جانے والے میرا پیار یاد رکھنا


تجھے راہ چلتے چلتے کوئی اجنبی ملے جب

تیری سُونی زندگی میں کوئی پھول سا کھلے جب

میری زندگی کی پہلی یہ بہار یاد رکھنا

یہ حسیں جواں نظارے یہ بہار یاد رکھنا

یہ حسیں جواں نظارے 

Friday, 4 December 2015

مجھے موت کیوں نہ آئی تری بے رخی سے پہلے

مجھے موت کیوں نہ آئی تِری بے رخی سے پہلے
کوئی غم نہیں تھا مجھ کو غمِ عاشقی سے پہلے
نہ ملا تھا پیار سے تُو کسی اجنبی سے پہلے
نہ کوئی تھا میرا دشمن تِری دوستی سے پہلے
میرے دل کو تُو نے توڑا نہ کہیں کا مجھ کو چھوڑا
میری زندگی میں آیا بڑی سادگی سے پہلے

پہلے ہمدرد بنے گا مجھے معلوم نہ تھا

پہلے ہمدرد بنے گا مجھے معلوم نہ تھا
پھر جفائیں بھی کرے گا مجھے معلوم نہ تھا
میرا ہمدرد، مِرا دوست، مِرا ہمراہی
کبھی دشمن بھی بنے گا مجھے معلوم نہ تھا
دیکھ کر جو مِری صورت کو جیا کرتا تھا
میرے سائے سے بچے گا مجھے معلوم نہ تھا

مرے پیار کو تم بھلا تو نہ دو گے

گیت

میرے پیار کو تم بھلا تو نہ دو گے
کہیں دوست بن کے دغا تو نہ دو گے
تمہیں دیکھنے کو ترستا رہوں میں
محبت میں ایسی سزا تو نہ دو گے
کسی اور کا نام تم دل پہ لکھ کے
میرا نام دل سے مٹا تو نہ دو گے

اے صنم تجھ سے میں جب دور چلا جاؤں گا

گیت

اے صنم تجھ سے میں جب دور چلا جاؤں گا
یاد رکھنا کہ تجھے یاد بہت آؤں گا

یہ ملن اور یہ حسین رات نہ جانے کب ہو
آج کے بعد ملاقات نہ جانے کب ہو
اب ترے شہر، مسافر کی طرح آؤں گا
یاد رکھنا کہ تجھے یاد بہت آؤں گا