Friday, 4 December 2015

اے صنم تجھ سے میں جب دور چلا جاؤں گا

گیت

اے صنم تجھ سے میں جب دور چلا جاؤں گا
یاد رکھنا کہ تجھے یاد بہت آؤں گا

یہ ملن اور یہ حسین رات نہ جانے کب ہو
آج کے بعد ملاقات نہ جانے کب ہو
اب ترے شہر، مسافر کی طرح آؤں گا
یاد رکھنا کہ تجھے یاد بہت آؤں گا

چاند کے عکس میں سورج کی حسیں کرنوں میں
جھیل کے آئینوں میں بہتے ہوئے جھرنوں میں
ان نظاروں میں تجھے میں ہی نظر آؤں گا
یاد رکھنا کہ تجھے یاد بہت آؤں گا

یاد جب آئے گی وہ پہلی ملاقات تجھے
اور محبت کے فسانے کی ہر ایک بات تجھے
تیرے خوابوں میں خیالوں میں چلا آؤں گا
یاد رکھنا کہ تجھے یاد بہت آؤں گا

تجھ کو اس گیت کا ہر شعر کرے گا بے کل
میری یاد آئے گی جب بھی تجھے اے جانِ غزل
نغمہ بن بن کے خیالات پہ چھا جاؤں گا
یاد رکھنا کہ تجھے یاد بہت آؤں گا

چراغ جے پوری

No comments:

Post a Comment