گیت
اے صنم تجھ سے میں جب دور چلا جاؤں گا
یاد رکھنا کہ تجھے یاد بہت آؤں گا
یہ ملن اور یہ حسین رات نہ جانے کب ہو
آج کے بعد ملاقات نہ جانے کب ہو
اب ترے شہر، مسافر کی طرح آؤں گا
چاند کے عکس میں سورج کی حسیں کرنوں میں
جھیل کے آئینوں میں بہتے ہوئے جھرنوں میں
ان نظاروں میں تجھے میں ہی نظر آؤں گا
یاد رکھنا کہ تجھے یاد بہت آؤں گا
یاد جب آئے گی وہ پہلی ملاقات تجھے
اور محبت کے فسانے کی ہر ایک بات تجھے
تیرے خوابوں میں خیالوں میں چلا آؤں گا
یاد رکھنا کہ تجھے یاد بہت آؤں گا
تجھ کو اس گیت کا ہر شعر کرے گا بے کل
میری یاد آئے گی جب بھی تجھے اے جانِ غزل
نغمہ بن بن کے خیالات پہ چھا جاؤں گا
یاد رکھنا کہ تجھے یاد بہت آؤں گا
چراغ جے پوری
No comments:
Post a Comment