چھاؤں بیچ آئے اگر نفس سے مجبور ہوئے
وہ جو تقسیمِ ثمر پر یہاں مامور ہوئے
شعبۂ رزق خدا نے جو رکھا اپنے پاس
نائبِ اللہ بہت بد دل و رنجور ہوئے
وہی شداد، وہی جنتِ خاشاک نہاد
وہ رعونت ہے کہ لگتا ہے ازل سے ہیں یونہی
نشۂ مسندِ شاہانہ سے مخمور ہوئے
ہم وہ شہزادِ سیہ بخت کہ دشمن کی بجائے
اپنے لشکر کے سبب شہر میں محصور ہوئے
اب تو بس خواب کی بیساکھی پہ چلنا ہو گا
مدتیں ہو گئیں اس آنکھ کو معذور ہوئے
پروین شاکر
No comments:
Post a Comment