عکس بن کر وہ مِرے دل میں اتر جائے گا
پھر مِری سوچوں کا شیرازہ بکھر جائے گا
دشت کا سناٹا پیہو کی صدا چیرے گی جب
آئینے میں ایک سایہ سا سنورتا جائے گا
چبھ رہا ہے جو مِری سانسوں میں کانٹے کی طرح
اشک بن کر میری آنکھوں سے چھلکتا جائے گا
عکس بن کر وہ مِرے دل میں اتر جائے گا
پھر مِری سوچوں کا شیرازہ بکھر جائے گا
دشت کا سناٹا پیہو کی صدا چیرے گی جب
آئینے میں ایک سایہ سا سنورتا جائے گا
چبھ رہا ہے جو مِری سانسوں میں کانٹے کی طرح
اشک بن کر میری آنکھوں سے چھلکتا جائے گا
شہر ان کا اگر چھوڑ آئے تو کیا
آنکھ نم ہی رہی مسکرائے تو کیا
نقش چاہت کے دل سے نہ مٹ پائیں گے
حرف کاغذ کے تم نے مٹائے تو کیا
چھپ نہ پائیں نظر کی یہ بے چینیاں
لاکھ تم نے بہانے بنائے تو کیا
ہوتی تھیں بارشیں مگر بہتات یوں نہ تھی
ہم پر نوازشات کی برسات یوں نہ تھی
لہجے کے اختلاف سے معنی بدل گئے
واللہ بات اس طرح تھی بات یوں نہ تھی
اب ہے کہاں وہ چاندنی تاروں کی کہکشاں
تنہا، اداس، سہمی ہوئی، رات یوں نہ تھی
یقین دہانی
چمن میں بادِ صبا چلے گی
بہار ڈولی میں سُرخ پھُولوں کی
دُلہنوں کو
چمن میں لا کر اُتار دے گی
جب آسماں پر
ایک پل
اکثر
سیاہ رات کے گہرے سنّاٹے میں
میرا ماضی
میرے سامنے آ کر
پوچھتا ہے
جھک رہا ہے وقت کا یہ آسماں
کیا خبر پھر شام ہو جائے کہاں
پھر ملیں گے کہہ کے یہ بچھڑے تھے تم
اب سمٹتی ہی نہیں ہیں دوریاں
پر لگا کر اڑ رہے ہیں ماہ و سال
ختم ہونے کو ہے جیسے اب جہاں
دنیا کے بازار میں دیکھی ہم نے ہر شے فانی
دنیا کا غم مت کر پیارے! دنیا آنی جانی
تُو جیون کی اس بگیا سے سُکھ کی کلیاں چُن
چُن چُن چُن خُوشی کی ساری کلیاں چُن
اس جھُوٹی دنیا کے ان جھوٹے رشتوں کا کیا ہے
باتیں لوگ بناتے رہتے ہیں باتوں کا کیا ہے