Showing posts with label شگفتہ غزل. Show all posts
Showing posts with label شگفتہ غزل. Show all posts

Friday, 28 January 2022

عکس بن کر وہ مرے دل میں اتر جائے گا

 عکس بن کر وہ مِرے دل میں اتر جائے گا

پھر مِری سوچوں کا شیرازہ بکھر جائے گا

دشت کا سناٹا پیہو کی صدا چیرے گی جب

آئینے میں ایک سایہ سا سنورتا جائے گا

چبھ رہا ہے جو مِری سانسوں میں کانٹے کی طرح

اشک بن کر میری آنکھوں سے چھلکتا جائے گا

Saturday, 6 November 2021

شہر ان کا اگر چھوڑ آئے تو کیا

 شہر ان کا اگر چھوڑ آئے تو کیا

آنکھ نم ہی رہی مسکرائے تو کیا

نقش چاہت کے دل سے نہ مٹ پائیں گے

حرف کاغذ کے تم نے مٹائے تو کیا

چھپ نہ پائیں نظر کی یہ بے چینیاں

لاکھ تم نے بہانے بنائے تو کیا

Monday, 26 April 2021

ہوتی تھیں بارشیں مگر بہتات یوں نہ تھ

 ہوتی تھیں بارشیں مگر بہتات یوں نہ تھی

ہم پر نوازشات کی برسات یوں نہ تھی

لہجے کے اختلاف سے معنی بدل گئے

واللہ بات اس طرح تھی بات یوں نہ تھی

اب ہے کہاں وہ چاندنی تاروں کی کہکشاں

تنہا، اداس، سہمی ہوئی، رات یوں نہ تھی

Monday, 19 April 2021

چمن میں باد صبا چلے گی

 یقین دہانی


چمن میں بادِ صبا چلے گی

بہار ڈولی میں سُرخ پھُولوں کی

دُلہنوں کو

چمن میں لا کر اُتار دے گی

جب آسماں پر

Saturday, 17 April 2021

اکثر سیاہ رات کے گہرے سناٹے میں

 ایک پل


اکثر

سیاہ رات کے گہرے سنّاٹے میں

میرا ماضی

میرے سامنے آ کر

پوچھتا ہے

Friday, 16 April 2021

جھک رہا ہے وقت کا یہ آسماں

 جھک رہا ہے وقت کا یہ آسماں

کیا خبر پھر شام ہو جائے کہاں

پھر ملیں گے کہہ کے یہ بچھڑے تھے تم

اب سمٹتی ہی نہیں ہیں دوریاں

پر لگا کر اڑ رہے ہیں ماہ و سال

ختم ہونے کو ہے جیسے اب جہاں

Friday, 19 March 2021

دنیا کے بازار میں دیکھی ہم نے ہر شے فانی

 دنیا کے بازار میں دیکھی ہم نے ہر شے فانی

دنیا کا غم مت کر پیارے! دنیا آنی جانی

تُو جیون کی اس بگیا سے سُکھ کی کلیاں چُن

چُن چُن چُن خُوشی کی ساری کلیاں چُن

اس جھُوٹی دنیا کے ان جھوٹے رشتوں کا کیا ہے

باتیں لوگ بناتے رہتے ہیں باتوں کا کیا ہے