ایک پل
اکثر
سیاہ رات کے گہرے سنّاٹے میں
میرا ماضی
میرے سامنے آ کر
پوچھتا ہے
طنزیہ انداز میں
کیوں؟
کیسی ہو تم؟
اور میں
جیسے کوئی تصویر
بے بسی اور مایوسی کی
پتھرائی آنکھوں سے
اسے دیکھا کرتی ہوں
کیونکہ وہ
ایک پل ہے
گزرا ہوا
اور جواب میں
گر جاتے ہیں
میری آنکھوں سے
چند قطرے آنسو
شگفتہ غزل
No comments:
Post a Comment