Saturday, 17 April 2021

اکثر سیاہ رات کے گہرے سناٹے میں

 ایک پل


اکثر

سیاہ رات کے گہرے سنّاٹے میں

میرا ماضی

میرے سامنے آ کر

پوچھتا ہے

طنزیہ انداز میں

کیوں؟

کیسی ہو تم؟

اور میں

جیسے کوئی تصویر

بے بسی اور مایوسی کی

پتھرائی آنکھوں سے

اسے دیکھا کرتی ہوں

کیونکہ وہ

ایک پل ہے

گزرا ہوا

اور جواب میں

گر جاتے ہیں

میری آنکھوں سے

چند قطرے آنسو


شگفتہ غزل

No comments:

Post a Comment