سُبک رفتار لمحوں کی حدیں ترتیب دیتا ہوں
سحر کے سانس گِنتا ہوں شبیں ترتیب دیتا ہوں
مِرے لوگوں کی فطرت میں یزیدی وصف شامل ہے
وہی مجھ کو مٹاتے ہیں جنہیں ترتیب دیتا ہوں
خزاں نے خشک پتّوں میں صدائیں بانٹ رکھی ہیں
میں ان کی سرسراہٹ سے دُھنیں ترتیب دیتا ہوں