Showing posts with label سلیم ساگر. Show all posts
Showing posts with label سلیم ساگر. Show all posts

Sunday, 10 April 2022

سبک رفتار لمحوں کی حدیں ترتیب دیتا ہوں

سُبک رفتار لمحوں کی حدیں ترتیب دیتا ہوں

سحر کے سانس گِنتا ہوں شبیں ترتیب دیتا ہوں

مِرے لوگوں کی فطرت میں یزیدی وصف شامل ہے 

وہی مجھ کو مٹاتے ہیں جنہیں ترتیب دیتا ہوں 

خزاں نے خشک پتّوں میں صدائیں بانٹ رکھی ہیں 

میں ان کی سرسراہٹ سے دُھنیں ترتیب دیتا ہوں 

Thursday, 10 March 2022

مرے وہم و گماں سے بھی زیادہ ٹوٹ جاتا ہے

 مِرے وہم و گماں سے بھی زیادہ ٹوٹ جاتا ہے

یہ دل اپنی حدوں میں رہ کے اتنا ٹوٹ جاتا ہے

میں روؤں تو در و دیوار مجھ پر ہنسنے لگتے ہیں

ہنسوں تو میرے اندر جانے کیا کیا ٹوٹ جاتا ہے

میں جس لمحے کی خواہش میں سفر کرتا ہوں صدیوں کا

کہیں پاؤں تلے آ کر وہ لمحہ ٹوٹ جاتا ہے

Friday, 7 January 2022

دل کے مندر میں سجاتے تری پوجا کرتے

 دل کے مندر میں سجاتے تِری پوجا کرتے

تیری خواہش تھی تو کہتا تجھے سجدہ کرتے

ہم نہ ہوتے تو کوئی اور محبت کرتا

تُو نہ ہوتا بھی تو ہم تیری تمنا کرتے

اب تجھے روز نہ سوچوں تو بدن ٹوٹتا ہے

عمر گزری ہے تِری یاد کا نشہ کرتے

Tuesday, 14 December 2021

یہ نور جڑا دل کے نگینے میں رہے گا

عارفانہ کلام نعتیہ کلام


یہ نور جڑا دل کے نگینے میں رہے گا

اب گنبدِ خضرا مِرے سینے میں رہے گا

جو کوئی سلیقے سے چلا جائے گا در تک

پھر چاہے کہیں جائے قرینے میں رہے گا

جب تک مِری پلکوں کو اجازت نہیں ملتی

گریہ کا عمل جاری پسینے میں رہے گا

Monday, 13 December 2021

تجھے کس خدا کی تلاش ہے

عارفانہ کلام حمدیہ کلام


تلاش


تجھے کس خدا کی تلاش ہے

یہاں اور کوئی خدا نہیں

وہی ایک ہے

مجھے آج تک جو ملا نہیں

جو ندیم ہے، جو کریم ہے، جو علیم ہے

Wednesday, 24 March 2021

یہ جو سینے میں لیے کرب دروں زندہ ہوں

 یہ جو سینے میں لیے کربِ درُوں زندہ ہوں

کوئی امید سی باقی ہے کہ یوں زندہ ہوں

شہر کا شہر تماشائی بنا بیٹھا ہے

اور میں بن کے تماشائے جنُوں زندہ ہوں

میری دھڑکن کی گواہی تو میرے حق میں نہیں

ایک احساس سا رہتا ہے کہ ہوں زندہ ہوں

Saturday, 6 March 2021

راہ دیکھوں تو مری تاب نظر جاتی ہے

 راہ دیکھوں تو مِری تابِ نظر جاتی ہے

یہ نظر ہے کہ جو تا حدِ نظر جاتی ہے

میں نے سوچا تھا کہ یہ موج گزر جائے گی

میں سمجھتا تھا کہ ہر موج گزر جاتی ہے

اک مِرا دل کہ سمندر سے نہ سیراب ہوا

اور یہ آنکھ کہ اک اشک سے بھر جاتی ہے