عارفانہ کلام حمدیہ کلام
تلاش
تجھے کس خدا کی تلاش ہے
یہاں اور کوئی خدا نہیں
وہی ایک ہے
مجھے آج تک جو ملا نہیں
جو ندیم ہے، جو کریم ہے، جو علیم ہے
جو بصیر ہے، جو خبیر ہے، جو قدیر ہے
جسے اس کے حجرۂ خاص کے سبھی رُکن چھُو کے سُنا دیا
تِرا نام لے کے بتا دیا
جسے کہہ دیا
کوئی ایک لمس نہ ایسا ہو جو مِرے بدن کا ملال ہو
مجھے تیری دِید عطا کرے، جو مِری نظر پہ حلال ہو
وہ جو ربِ ہجر و وصال ہے
کوئی اور اُس کا خیال ہے
اُسے میں تو اپنے خیال سے کبھی متفق نہیں کر سکا
تجھے ملتفت نہیں کر سکا
تجھے کس خدا کی تلاش ہے
یہاں اور کوئی خدا نہیں
سلیم ساگر
No comments:
Post a Comment