Monday, 13 December 2021

تجھے کس خدا کی تلاش ہے

عارفانہ کلام حمدیہ کلام


تلاش


تجھے کس خدا کی تلاش ہے

یہاں اور کوئی خدا نہیں

وہی ایک ہے

مجھے آج تک جو ملا نہیں

جو ندیم ہے، جو کریم ہے، جو علیم ہے

جو بصیر ہے، جو خبیر ہے، جو قدیر ہے

جسے اس کے حجرۂ خاص کے سبھی رُکن چھُو کے سُنا دیا

تِرا نام لے کے بتا دیا

جسے کہہ دیا

کوئی ایک لمس نہ ایسا ہو جو مِرے بدن کا ملال ہو

مجھے تیری دِید عطا کرے، جو مِری نظر پہ حلال ہو

وہ جو ربِ ہجر و وصال ہے

کوئی اور اُس کا خیال ہے

اُسے میں تو اپنے خیال سے کبھی متفق نہیں کر سکا

تجھے ملتفت نہیں کر سکا

تجھے کس خدا کی تلاش ہے

یہاں اور کوئی خدا نہیں


سلیم ساگر

No comments:

Post a Comment